’ہم کیا چاہتے؟ آزادی‘

کشمیر: اخبارات کی اشاعت بند
Image caption کشمیر: اخبارات کی اشاعت بند، خبروں کی ترسیل ویب سائٹز تک محدود

’ہم کیا چاہتے؟ آزادی۔‘ اس نعرے کی گونج اجنبی یا نئی نہیں اور ایک کشمیری صحافی کے کانوں میں اس وقت بھی سنائی دیتی ہے جب وہ محوِ خواب ہوتا ہے۔۔۔

اس سال گیارہ جولائی کو صحافیوں نے دن ڈھلے یہ نعرہ خود لگا کر اپنی ’آزادی‘ کا مطالبہ کیا۔

اس سے ایک ماہ قبل گیارہ جون کو جب سری نگر کی گنجان آبادی والے راجوری کدل کے علاقے میں پولیس نے ایک سترہ سالہ نوجوان کو ہلاک کیا تو کشمیر میں ایک عوامی انقلاب برپا ہوا۔

ہلاکتیں پہلے بھی ہوئی ہیں، پر اس بار یہ ہنگامہ کیوں برپا ہے؟ دراصل گیارہ جون کو پولیس نے ایک نہیں دو قتل کیے۔

پولیس نے اس دن پہلے سترہ سالہ طفیل متو کو ہلاک کیا پھر الزام ان لوگوں کے سر تھوپ دینے کی کوشش کی جنھوں نے اس نوجوان کی جان بچانے کی خاطر اسے ہسپتال پہنچا کر انسانیت نامی چیز کی لاج رکھ لی تھی۔ ایک انسان کا قتل اور دوسرا سچائی کا۔

میرے نزدیک اس انقلاب کا اصل محرک اتنا پہلا نہیں جتنا دوسرا قتل ہے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات ان واقعات کا بس تسلسل ہے جن سے کشمیری قوم گزشتہ اکیس سال سے لہو لہان ہے۔

اور یہ بھی صحیح ہے کہ یہ تو سلگتی چنگاری تھی جو بس بھڑک اٹھی۔ یہ اس گھٹن سے نکلنے کی جستجو ہے جس میں یہ قوم اپنے آپ کو جکڑی ہوئی پاتی ہے۔

ایسے میں کشمیری میڈیا کتنی اپنی قوم کی توقعات کا پاس کر پاتا ہے، یہ سوال مجھے ہمیشہ گھورتا رہتا ہے۔

یہ تلخ حقیقت ماننی پڑےگی کہ کشمیری میڈیا جو گزشتہ بیس سال میں پروان تو چڑھا لیکن مکمل طور پر آزاد ہرگز نہیں ہوا۔

نجی کاروبار کی عدم موجودگی میں سرکاری اشتہارات پر انحصار، سرکار کی معلومات کے بہاؤ پر اجارہ داری، اور پھر حق بات پر طرح طرح کے ہتھکنڈوں کا سامنا، ایسی چیزیں ہیں جس نے اصل میں کشمیری میڈیا کی کمر توڑ رکھی ہے۔

حد یہ ہے کہ جب جب یہاں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو اربابِ اختیار توقع رکھتے ہیں کی عوامی مزاحمت دبانے کے لیے درکار ’فریب کاری‘ کی سیاست میں مقامی میڈیا ان کا ہم نوا بنے۔

ایسے میں مقامی میڈیا جب جب ایسے واقعات کی عکاسی کرتا ہے تو سچ کے ساتھ ساتھ ’پروپیگنڈا‘ کو بھی تقریباً مساوی مقام دینا ہی پڑتا ہے۔ اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا پروفیشنل زور آوری، حقیقت سے انکار نہیں۔

ایسے میں جب ایک کشمیری کو اجنبی ٹی وی چینلز اور طاقتور میڈیا کی یلغار کا سامنا ہے تو اس کی نظر بجا طور پر اس میڈیا پر رکتی ہے جو خود کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے۔

ادھر یہ وضاحت ضروری ہے کہ کشمیر میں اگرچہ اس وقت اندازاً پچیس نیوز چینلز رات دن میسر ہیں لیکن ان میں ایک بھی کشمیری نہیں ہے۔ کشمیری میڈیا بس جو بھی ہے وہ یا تو اخبارات کی شکل میں ہے یا پھر کیبل کے ذریعے گنتی کے چند چینلز۔

اور اس پر طرہ یہ کہ سرکار ان کی رہی سہی آزادی سے بھی خائف ہے۔ تین ماہ سے اشتہارات کی عدم موجودگی سے پیدا شدہ بحران جھیل رہے یہ اخبارات بلاآخر گزشتہ دو ہفتوں سے بلکل بند پڑے ہیں۔ اشتہارات در کنار اخبارات کی ترسیل ایسے میں کس طرح ممکن ہے جب چار سو چلنے پھرنے پر مکمل قدغن ہو۔

ادھر یہ حقیقت تو دوسری طرف احساس محرومی کی شکار قوم کی اس میڈیا سے حقیقی توقعات۔

میں اپنے گزشتہ بیس سال کے تجربات کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر میں آزادانہ طور پر پر فرض نبھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

ہو سکتا ہے میرے ساتھیوں نے گیارہ جولائی کو ’ہم کیا چاہتے؟ آزادی‘ کا نعرہ تازہ سرکاری قدغن سے آزاد ہونے کے لیے دیا ہو، میں نے تو یہ نعرہ ہر اس بندش سے نکلنے کے لیے دیا جس نے میرے ہاتھوں اور قلم کو تعزیر میں جکڑ رکھا ہے۔

(بھارت کے زیر انتظام کمشیر میں سخت ترین کرفیو کی وجہ سے مقامی اخبارات گزشتہ پانچ۔چھ روز سے شائع نہیں ہو سکے ہیں۔ ان حالات میں مقامی ذرائع ابلاغ کس طرح اپنا کام کاج کرتے ہیں اور اس صورت حال پر مقامی صحافیوں کی کیا رائے ہے، یہ جاننے کے لیے بی بی سی اردو نے کشمیر کے چند مدیران کو کالم لکھنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا کالم ہے۔)

اسی بارے میں