آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 فروری 2011 ,‭ 22:57 GMT 03:57 PST

ممبئی میں سندھی زبان کو زندہ رکھنے کی کوششیں

سنہ سینتالیس میں پاکستان کے صوبے سندھ سے ممبئی آئے سندھی اپنی زبان کو زندہ رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ممبئی میں سندھی زبان کا ایک ہی سکول اور ایک ہی اخبار بچا ہے جسے قائم رکھنے کے لیے مقامی سندھیوں سے جو بن پڑا رہا ہے کر رہے ہیں تاکہ ان کی زبان باقی رہ جائے۔

ممبئی میں تقریبا چار لاکھ سندھی رہتے ہیں جو گھرو ں میں سندھی زبان بولتے ہیں۔لیکن ان میں زیادہ تر نہ تو اس زبان کو لکھ سکتے ہیں اور نہ اسے پڑھنا جانتے ہیں۔ممبئی میں اس وقت صرف سندھی ایسی زبان ہے جس کا محض ایک سکول ممبئی کے ماہم علاقے میں ہے لیکن وہاں بھی طلباء کی تعداد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔

چوہتر سالہ پریتم وریانی

وریانی کہتے ہیں کہ وہ چودہ برس کے تھے جب اپنے والدین کے ہمراہ سندھ کے اوباڑہ گاؤں سے ممبئی آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ زبان کی حفاظت ایک ماں اچھی طرح کر سکتی ہے کیونکہ وہ اپنے بچے کو گود میں لے کر اس سے اپنی زبان میں گفتگو کرتی ہے۔ اس لیے بچہ وہ زبان سیکھ جاتا ہے۔ لیکن آج کی نسل کی انگریزی میں پڑھی لکھی ماں جب اپنے بچوں سے سندھی کے بجائے انگریزی میں گفتگو کرے گی تو بچے اپنی مادری زبان کہاں سے سیکھیں گے۔

’سندھ ایک ریاست تھی لیکن تقسیم کے بعد جب ہم ہندستان آئے تو بکھر گئے اور اسی بکھرنے نے ہم سے ہمارا کلچر اور اب زبان سب کچھ چھین لیا۔‘

وریانی کے مطابق انیس سو اکہتر تک ممبئی میں سندھی والدین اپنے بچوں کو مادری زبان میں ہی تعلیم دلاتے تھے لیکن اس کے بعد بہت سے انگریزی سکول کھل گئے جس کے نتیجے میں والدین نے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے بچوں کو کانوینٹ سکولوں میں پڑھانا شروع کیا جس کا نتیجہ آج سامنے ہے کہ سندھی سکول بند ہو گئے ہیں۔

تاہم وریانی اسے صرف والدین کی غلطی نہیں مانتے۔ ماحول بدل رہا تھا اس لیے والدین نے بھی وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے میں ہی عافیت سمجھی۔ ’لڑکے شادی کے لیے کانوینٹ پڑھی لڑکی کا مطالبہ کرنے لگے تھے۔‘

سندھی ایسوسی ایشن کے سکریٹری گھنشیام میگھ رام چھوگانی کہتے ہیں کہ ان کی اس تنظیم میں کئی سینیئر ممبر ہیں اور سب نے طے کیا ہے کہ وہ گھروں میں اپنے بچوں سے سندھی زبان میں ہی گفتگو کریں گے۔ ’ہم نے اتوار کے روز سندھی زبان سکھانے کے لیے کلاسز بھی شروع کی ہیں تاکہ طلباء اس زبان کو سیکھ سکیں۔‘

لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ طلباء اب اس زبان کو سیکھنے کے بجائے اس وقت میں فرینچ یا دوسری غیر ملکی زبان سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اوشا چوتیانی ممبئی کے ایچ آر کالج میں ایم بی اے کے تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ گھر میں سندھی زبان میں ہی بات کرتی ہیں لیکن انہیں مادری زبان میں لکھنا یا پڑھنا نہیں آتا۔ ’میرے دوست انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں۔ میرے دوستوں کا دائرہ میرے والدین سے بالکل الگ ہے۔ میری ماں چاہتی ہیں کہ میں سندھی زبان سیکھنے کے لیے کلاسز لوں لیکن میرے پاس وقت نہیں ہے میں چاہتی ہوں کہ اس وقت کا فائدہ اٹھاکر میں کوئی غیر ملکی زبان سیکھوں جو میرے کام آسکے۔‘

ممبئی سے متصل الہاس نگر کی کہانی ممبئی سے کچھ مختلف ہے۔ یہاں ابھی چھ سکول ہیں اور طلباء بھی۔ جگدیش گووند رام تیجوانی یہاں سندھی کلچر کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف پروگرام کرتے ہیں۔اکثر وہ معمر افراد اور نوجوانوں کے دستے لے کر پاکستان بھی جاتے ہیں تاکہ سندھ جا کر وہاں کی تہذیب اور ثقافت سے انہیں روشناس کرائیں۔ ان کا گروپ یہاں سندھی یوتھ سرکل کے ماتحت مقامی معمر افراد اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر سندھی کلچرل پروگرام کرتا ہے اور بچوں کو گھرو ں میں ہی سندھی زبان سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاہم چھوگانی مانتے ہیں کہ زبان کو بہت زیادہ دنوں تک یہاں اس ماحول میں زندہ رکھنا اب مشکل ہو چکا ہے۔ ’امید پر دنیا قائم ہے۔ہو سکتا ہے کہ حکومت کل کوئی ایسا قانون منظور کردے جس کے تحت مادری زبان پڑھنا لازمی ہو جائے ہم اسی دن کے انتظار میں ہیں‘۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔