انا ہزارے کو گرفتار کر لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انا ہزارے نے جے پی پارک میں ’مرن برت‘ رکھنے کا اعلان کیا تھا

بھارت میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف مہم چلانے والے سماجی کارکن انا ہزارے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انا ہزارے کا مطالبہ ہے کہ حکومت پارلیمان میں ایک مضبوط انسدادِ رشوت ستانی بل پیش کرے۔

بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی لڑائی

انّا کی گرفتاری پر احتجاج: تصاویر

انہوں نے حکومت کے موجودہ لوک پال بل کے مقابلے میں ایک متبادل ’جن لوک پال بل‘ حکومت کو پیش کیا ہے جس میں وزیراعظم اور عدلیہ کو بھی لوک پال کی تفتیش کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے لیکن حکومت اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

کشن بابو راؤ ہزارے نے، جو انّا کے نام سے معروف ہیں منگل سے جے پرکاش نارائن پارک میں ’مرن برت‘ رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم منگل کو علی الصبح پولیس حکام نے انہیں ان کےگھر سے حراست میں لیا۔

گرفتاری سے پہلے جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پورے ملک میں گرفتاریاں دیں ۔ داخلہ سیکرٹری آر کے سنگھ نے انا کی گرفتاری کا جواز دیتے ہو ئے کہا کہ انا ہزارے نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دھرنا دیں گے ، اس لیے انہیں گرفتار کرنا پڑا ۔

جے پی پارک اور دیگر کئی علاقوں میں دہلی انتظامیہ نے دفعہ ایک سو چوالیس بھی لگا دی ہے اور وہاں چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہے۔

دلّی پولیس نے انا کو تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کی اجازت نہیں دی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف تین دنوں کے لیے ہڑتال کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی ان پر بیس سے زیادہ شرائط عائد کی گئی تھیں جن میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ بھوک ہڑتال کے مقام پر پانچ ہزار سے زیادہ افراد موجود نہیں ہوں گے

تاہم انا نے انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی بائیس شرائط میں سے چھ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ انا ہزارے کے ایک ساتھی اروند کجریوال نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’پولیس نے ہمیں حراست میں لے لیا ہے‘۔

انا ہزارے کے ساتھ ایک ’مضبوط لوک پال قانون‘ کے لیے جدوجہد میں مصروف سابق پولیس افسر کرن بیدی نے کہا ہے کہ جب انا ہزارے نے پولیس سے پوچھا کہ ان کا جرم کیا ہے تو پولیس نے کہا کہ’ہمیں حکم ہے‘۔

کرن بیدی نے الزام لگایا کہ یہ گرفتاری کانگریس پارٹی کے کہنے پر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دلی پولیس ہمیشہ سے دھرنوں اور مظاہروں کو منظم کرتی آئی ہے اس لیے وہ خود سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دلّی پولیس کو خدشہ ہے کہ انا ہزارے کی ہڑتال سے شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے ہزاروں حامی اس موقع پر ان کے ساتھ بھوک ہڑتال کرنے کے لیے شہر میں جمع ہیں۔

انا کی گرفتاری کو حزب اختلاف نے بھارتی جمہوریت کے لیے ایک افسوسناک دن قرار دیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنا ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ ’اس وقت سوال لوک پال بل کے بارے میں اختلافات کا نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک شخص جس نے بد عنوانی کے خلاف پرامن مہم چلا رکھی ہے اسے احتجاج کا حق حاصل ہے یا نہیں‘۔

ارون جیٹلی نے کہا کہ منموہن سنگھ بھارت کی تاریخ کی سب سے بدعنوان کابینہ کی سربراہی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف اور احتجاج کے حق کا سوال پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا ۔

بی جے پی انا کی گرفتاری پر فوری بحث کے لیے پارلیمنٹ میں وقفۂ سوالات معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی ہے۔

پارٹی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی نے کہا ہے کہ انہیں انا ہزارے کی گرفتاری پر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے کیونکہ حکومت اسی سمت میں بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ’منموہن سنگھ کی حکومت بد عنوانی پر قابو پانے اور اس اس کی ذمے داری لینے کے بجائے قربانی کا بکرا تلاش کر رہی ہے‘۔

ملک کے کئی شہروں میں انا ہزارے کی حمایت میں مظاہرے بھی شروع ہو گئے ہیں جبکہ دلی اور ديگر شہروں میں سینکڑوں لوگوں نے گرفتاریاں دی ہیں۔

بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد کے رہنما انا ہزارے کی مہم کے بارے میں ایک متفقہ موقف وضع کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں جبکہ منموہن سنگھ کی حکومت اور حکمراں کانگریس نے ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں