انا ہزارے، مشروط رہائی قبول کرنے سے انکار کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کے متعدد شہروں میں بڑے پیمانے پر شدید احتجاج اور ہر حلقے کی جانب سے نکتہ چینی کے بعد حکومت نے سماجی رہنما انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرنےکا فیصلہ کیا ہے لیکن انا نے جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا ہے۔

انا ہزارے کی گرفتاری کے سات گھنٹے کے اندر پولیس نے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انا ہزارے نے کہا ہے کہ وہ غیر مشروط رہائی چاہتے ہیں اور وہ اس وقت ہی جیل سے باہر آئیں گے جب انہیں سیدھے جے پرکاش نارائن پارک جانے کی اجازت دی جائے گی جہاں وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کریں گے۔

بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی لڑائی

انا کی گرفتاری اور احتجاج: تصاویر

دلیّ سے نامہ نگار شکیل اخیر کے مطابق منگل کو جیل سے رات دیر گئے انا ہزارے کے ایک ساتھی منیش سیسودیا باہر آئے اور انہوں نے وہاں موجود صحافیوں کو بتایا کہ انا کو مشروط رہائی قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انا نے جیل کے اندر اپنے سات دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

دریں اثناء تہاڑ جیل کے باہر ہزاروں حامی جمع ہیں اور وہاں لوگ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جے پی پارک کے اطراف میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے اور کئی مقامات پر انا ہزارے کے ہزاروں حامی ان کے انتظار میں کھڑے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں۔

انا ہزارے کو پولیس نے منگل کی صبح مشرقی دلّی کے ایک مکان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔

وہ منگل کی صبح غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے والے تھے لیکن پولیس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

گرفتاری کے بعد حکم امتناعی کی خلاف ورزی نہ کرنے کا تحریری وعدہ نہ کرنے کے بعد انہیں سات دن کی عدالتی تحویل کے تحت تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

شام میں وزیر اعظم، راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کی ایک میٹنگ ہوئی اور اس میٹنگ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے انا ہزارے کی گرفتاری اور ان کی مہم سے نمٹنے کے طریقہء کار پر ناخوشی ظاہر کی۔

واضح طور پر انا کی گرفتاری حکومت کی ایماء پر عمل میں آئی تھی اور حکومت کے ہی کہنے پر انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انا کی رہائی کے لیے مجسٹریٹ نے ان کی رہائی کی شرائط میں تبدیلی کی اور انھیں کسی ضمانت کے بغیر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔

بدعنوانی کے خلاف تحریک کے علمبردار انا ہزارے کی گرفتاری کے بعد پورے ملک میں احتجاج شروع ہو گئے تھے اور ان کی حمایت کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا تھا۔

منگل کو حکومت کے تین وزیروں نے انا کی گرفتاری کا دفاع کیا تھا اور رات ہوتے ہی حکومت کو اپنا ہی فیصلہ بدلنا پڑا۔

لیکن انا ہزارے کے انکار سے حکومت کے لیے پیچیدگی اور بھی بڑھ گئی ہے۔ کسی نہ کسی مرحلے پر اسے ایک بار پھر جھکنا ہو گا اور بہت ممکن ہے کہ اسے مجبوراً انا کو غیر مشروط اجازت دینی پڑ جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تہاڑ جیل کے باہر ہزاروں حامی جمع ہیں اور وہاں حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں

بدھ کو سول سوسائٹی نے انڈیا گیٹ سے پارلیمنٹ تک مارچ کا اعلان کیا ہے۔ حزب اختلاف نے سول سوسائٹی کے احتجاج کے حق کی حمایت کی ہے۔ وزیر اعظم بھی پارلیمنٹ میں بیان دینے والے ہیں لیکن جس طرح کا تناؤ ہے اس میں پارلیمنٹ کا اجلاس جاری رہنے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ ’عوام کی نظروں میں حکومت کرپٹ ہے اور انا ہزارے کی شبیہ ایک ایمان دار شخص کی ہے۔ عوام اسے ایک بے ایمان حکومت کے ذریعے ایک ایماندار رہنما کی گرفتاری کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اسی لیے اس پر شدید رد عمل ہوا ہے۔‘

بدعنوانی اور رشوت ستانی پر قابو پانے لیے ایک موثر لوک پال ادارے کی تشکیل کے لیے انا ہزارے کی تحریک سے صرف حکومت ہی نہیں، وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے اور عوام میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ حکومت بد عنوانی پر قابو پانےکے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔

حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان یہ سیدھا ٹکراؤ ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کے پیچھے ہٹے بغیر مصالحت کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں