ڈیم پر بھروسہ، حکومت کا انتظار نہ کرو: انا ہزارے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت اور ہزارے کرپشن کے قوانین کو مزید سخت کرنے کے دنگل میں آمنے سامنے ہیں

بھینگر ریاست مہاراشٹرا کے ہزاروں دیہاتوں میں سے ایک ہے۔ اسی بھینگر میں چوہتر برس پہلے کے ماہِ جون میں ایک کھیت مزدور کے گھر میں بابو راؤ پیدا ہوا۔ وہ صرف سات جماعتیں پڑھ پایا۔ خاندان کی غریبی سے تنگ آ کے ایک اورگاؤں رالیگان سدھی میں آن بسا۔ بابو راؤ پہلے کھیتوں میں کام کرتا رہا پھر بمبئی آگیا اور دادر کے علاقے میں سڑک کنارے پھول بیچنے لگا۔

انیس سو باسٹھ میں چین بھارت لڑائی کے بعد ملک میں فوجی بھرتی کی مہم چلی تو بابو بھی بطور ڈرائیور آرمی میں بھرتی ہوگیا اور یوں اسے پہلی مرتبہ مہاراشٹرا سے باہر کی دنیا دیکھنے کا موقع ملا۔

انیس سو پینسٹھ کی لڑائی کے دوران بابو راؤ کھیم کرن کے محاذ پر تھا جب پاکستانی فوج سے لڑائی کے دوران اس کے سارے ساتھی کام آگئے اور بابو راؤ کی ران میں بھی گولی لگی۔ جنگ کے بعد دو ماہ کی چھٹی ملی اور گاؤں واپسی کے دوران نئی دلّی ریلوے سٹیشن کے ایک بک سٹال سے اس نے سوامی ووک آنند کی کتاب خرید لی۔اس کتاب نے بابو راؤ کی زندگی میں مقصدیت کو جگا دیا۔ لبِ لباب یہ تھے کہ انسانیت کی خدمت ہی کسی آدمی کی معراج ہے۔

بابو راؤ نے فیصلہ کیا کہ فوج سے استعفیٰ دے کر خدمتِ خلق کے کاموں میں جٹ جائے تاہم اس نے حساب لگایا کہ اگر اس وقت استعفیٰ دیا تو ایک پیسہ نہیں ملے گا۔ پنشن پانے کے لیے کم ازکم پندرہ برس کی نوکری ضروری ہے۔ چنانچہ بابو راؤ نے فوج چھوڑنے کا خیال اگلے بارہ برس کے لیے دل سے نکال دیا۔

بابو راؤ ہر برس دو ماہ کی سالانہ چھٹی رالگیان سدھی میں ہی گزارتا تھا۔ اس گاؤں کا دارومدار بارش کے پانی پر تھا۔ بادل برس گئے تو ہریالی نہیں برسے تو بھک مری۔

جب پندرہ برس کی فوجی سروس کے بعد 1978 میں بابو راؤ ریٹائر ہوا تو اس نے سوچا کہ اگر کسی طرح پانی کا مسئلہ حل ہوجائے تو باقی مسئلے بھی حل ہوسکتے ہیں۔ بابو راؤ کا رابطہ سسواد کے علاقے میں کام کرنے والے ایک ماہرِ آب ولاس راؤ سولنکی سے ہوا۔ پھر بابو راؤ نے اپنےگاؤں والوں سے بات کی اور یوں مقامی وسائل اور طریقوں سے سائنسی استفادے کے سبب گاؤں میں بارش کے پانی کی ایک ایک بوند محفوظ کرنے کا کام شروع ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آج لاکھوں لوگ انا ہزارے کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں

آج رالگیان سدھی محنت و اتحاد کے بل پر پورے بھارت میں ایک ماڈل ولیج کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آبی تحفظ اور کفائت شعاری کے سبب جہاں تینتیس برس پہلے صرف ساڑھے تین سو ایکڑ زمین میں صرف ایک فصل کاشت ہوتی تھی وہاں اب ڈیڑھ ہزار ایکڑ زمین سے دو فصلیں اٹھائی جاتی ہیں۔ جہاں صرف تین سو لیٹر دودھ روزانہ دوہا جاتا تھا آج دودھ کی پیداوار چار ہزار لیٹر روزانہ ہے جس کی فروخت سے گاؤں کو سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی اجتماعی آمدنی ہوتی ہے۔

اس آمدنی میں سے ایک کروڑ روپے نکال کر ایک سکول، ہاسٹل اور جمنازیم تعمیر کیا گیا ہے۔گاؤں کا کوئی دکاندار شراب، سگریٹ اور بیڑی فروخت نہیں کرتا۔ پہلے یہاں کے لوگ کھیت مزدوری کے لیے دوسرے علاقوں میں موسمی ہجرت کرتے تھے۔ آج دوسرے گاؤں سے یہاں لوگ کھیت مزدوری کے لیے آتے ہیں۔ جس گاؤں کی سالانہ آمدنی سوا دو سو روپے فی کس تھی آج ڈھائی ہزار روپے فی کس ہے۔

اس عرصے میں رالگیان سدھی میں گرام پنچائت، کوآپریٹو کنزیومر سوسائٹی، کریڈٹ سوسائٹی، کوآپریٹو ڈیری، ایجوکیشنل سوسائٹی، ویمن آرگنائزیشن اور یوتھ آرگنائزیشن قائم ہوئی۔

رالگیان سدھی کی دیکھا دیکھی آس پاس کے چار گاؤں بھی ماڈل ولیج بن گئے اور اس وقت پورے مہاراشٹرا میں اسی سے پچاسی گاؤں رالگیان سدھی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ چار لوگ رالگیان سدھی کے تجربے پر پی ایچ ڈی کرچکے ہیں اور سالانہ ہزاروں اس گاؤں کو دیکھنے آتے ہیں اور یہ چھوٹی موٹی سیاحت بھی اضافی آمدنی کا سبب بنتی ہے۔

بابو راؤ ہزارے نے رالگیان سدھی والوں کو کچھ سیدھی سیدھی باتیں بتائیں۔

اول: گاندھی جی کے اس فلسفے میں آج بھی بڑی جان ہے کہ ہندوستان دراصل گاؤں کا نام ہے۔ آپ گاؤں سیدھا اور خودکفیل کرلیں ملک خود بخود سیدھا اور خودکفیل ہوجائے گا۔

دوم: پانی کے لیے اپنے وسائل پر بھروسہ کریں ڈیم پر بھروسہ نہ کریں کیونکہ ڈیم تو ایک دن مٹی سے بھر جائے گا لیکن مٹی کے نیچے چھپا پانی اگر ذہانت اور احتیاط سے استعمال کیا جائے تو ختم نہیں ہوگا۔

سوم: ترقی کرنی ہے تو حکومت کا انتظار مت کیجیے کیونکہ یہ راستہ نہ صرف طویل بلکہ کرپشن سے پٹا پڑا ہے۔ اپنے وسائل کو خود ترقی دے کر خود پر خرچ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انا ہزارے نے انیس سو اکیانوے میں کرپشن کے خلاف بھرشٹا چار وردودھی جن آندولن کی بنیاد رکھی تھی

بھارتی حکومت نے بابو راؤ ہزارے کو پدم شری سے نوازا۔ لیکن بابو راؤ نے خود کو محض رالگیان سدھی تک محدود نہیں کیا۔ وہ اپنی فلاسفی لے کر آگے نکل کھڑے ہوئے۔ انیس سو اکانوے میں انہوں نے کرپشن کے خلاف بھرشٹا چار وردودھی جن آندولن کی بنیاد رکھی اور مہاراشٹرا میں ترقی کے نام پر کروڑوں اربوں کے غبن اور فنڈز ضائع کرنے کی بیماری کے خلاف جھنڈا بلند کردیا۔

پہلا شکار محکمہ جنگلات کے بیالیس افسر بنے جنہوں نے جنگلاتی تحفظ کے فنڈ میں سے کروڑوں روپے غبن کرلیے تھے۔ چونکہ ایک ریاستی وزیر بھی ملوث تھا لہٰذا حکومت نے ثبوتوں کے باوجود سنی ان سنی کردی۔ بابو راؤ نے احتجاجاً پدم شری واپس کردیا اور آلندی میں تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی ۔ہزاروں شہری بالخصوص نوجوان ان کی جانب لپک پڑے۔ مہاراشٹرا حکومت کے چھ وزراء اور چار سو کے لگ بھگ سرکاری افسران فارغ کردیے گئے۔

انیس سو پچانوے سے اٹھانوے تک مہاراشٹرا میں کوآپریٹو اور کریڈٹ سوسائٹیوں اور دیہی بینکوں میں گھپلوں کے خلاف بابو راؤ تین ماہ جیل میں بھی رہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں کرپٹ افسروں سے سوا ارب روپے برآمد ہوئے اور چار ارب کی نشاندہی ہوئی۔

انیس سو ستانوے سے بابو راؤ ہزارے نے مہاراشٹرا حکومت پر عوام کو ہر محکمے کی کارکردگی کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کے حق کا قانون بنانے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ جب چھ برس تک بھی حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگی تو ممبئی کے آزاد میدان میں ہزاروں نوجوانوں کے ساتھ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی۔ بارہویں دن حقِ اطلاعات کا قانون منظور ہوگیا اور پھر دو برس بعد یہی قانون پورے بھارت میں نافذ ہوگیا۔

دو ہزار گیارہ میں بابو راؤ ہزارے نے بھارت میں کرپشن کے احتساب کے لیے مرکزی اور ریاستی محتسب کے اداروں کو موثر اختیارات دینے کے لیے دلّی میں جنتر منتر پر تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کی۔ لاکھوں لوگ ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئے اور منموہن سنگھ حکومت کو جن لوک پال بل منظور کرنا پڑا۔ آج پھر حکومت اور بابو راؤ ہزارے کرپشن کے قوانین کو مزید سخت کرنے کے دنگل میں آمنے سامنے ہیں۔

بابو راؤ ہزارے نے شادی نہیں کی۔ان کا کُل بینک بیلنس اڑسٹھ ہزار چھ سو اڑسٹھ روپے اورگاؤں میں پانچ ایکڑ سے کم زمین بھی ہے۔

اسی بارے میں