جج کے خلاف مواخذے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سومتر سین پر 33 لاکھ روپے کے غلط استعمال کا الزام ہے

بھارتی راجیہ سبھا نے کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سومتر سین کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کی اکثریتِ رائے سے منظوری دے دی ہے۔

اس تجویز کے حق میں ایک سو نواسی اور مخالفت میں سترہ ارکان نے ووٹ دیا۔ یہ بھارت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے خلاف ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

اصولوں کے مطابق جسٹس سین کو ہٹانے کی تجویز کی منظوری کے لیے ایوان میں موجود اراکین میں سے دو تہائی کی منظوری ضروری تھی۔

اب اس تجویز کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا اور اگر وہاں بھی ایوان میں موجود ارکان میں سے دو تہائی اسے منظور کرتے ہیں تو اسے حتمی منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجا جائے گا۔

جسٹس سومتر سین کے خلاف مالی بدعنوانی اور حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام ہے۔ ان پر سٹیل اتھارٹی آف انڈیا اور شپنگ اتھارٹی آف انڈیا کے درمیان عدالتی تنازعہ میں تقریباً 33 لاکھ روپے کے غلط استعمال کا الزام ہے۔

راجیہ سبھا میں بدھ کو سومتر سین کو ہٹانے کی تجویز سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے پیش کی جس کے بعد مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے اس پر اپنی رائے ظاہر کی۔

بھارت کے چیف جسٹس اور راجیہ سبھا کے چیئرمین نے الزامات کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی بنائی تھیں اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سومتر سین نے پہلے وکیل کے طور پر اور بعد میں جج کے طور پر اس بینک اکاؤنٹ سے کئی بار چیک سے اور نقد پیسے نکالے جس کے وہ ریسیور تھے۔

سومتر سین سے پہلے نویں لوک سبھا کے دوران سنہ 1993 میں مدراس کے جسٹس راماسوامي کے خلاف قرارداد لائی گئی تھی لیکن وہ منظور نہیں ہو سک تھی۔

اس دوران بدعنوانی اور غلطِ طرز عمل کے الزامات کا سامنا کرنے والے سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پی دناكرن کے خلاف بھی قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن انہوں نے اس سے پہلے ہی گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

اسی بارے میں