رام لیلا میدان میں ہزارے کی بھوک ہڑتال

Image caption انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا آج چوتھا دن ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کرنے والے سماجی کارکن انا ہزارے تین دن کے بعد دلی کی تہاڑ جیل باہر آنے کے بعد رام لیلا میدان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اب اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

انا ہزارے جمعہ کو جیل کے دروازے سے باہر نکلے تو وہاں موجود ہزاروں لوگوں نے نعروں کی گونج میں ان کا استقبال کیا۔

بحث سے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا

اپنے مداحوں سے مختصر خطاب میں انا ہزارنے نے کہا کہ ’ میں رہوں نہ رہوں، یہ تحریک جاری رہنی چاہیے‘۔

انا ہزارے کی ٹیم اور دلی پولیس کے درمیان جعرات کی صبح اس بات پر سمجھوتہ ہوگیا تھا کہ وہ رام لیلا میدان میں پندرہ دن تک بھوک ہڑتال اور دھرنا کر سکتے ہیں لیکن تیاریاں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ایک اور رات تہاڑ جیل میں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جیل سے باہر آنے کے بعد انا ہزاروں حامیوں کے ہمراہ ایک جلوس کی صورت میں تہاڑ جیل سے رام لیلا میدان پہنچے۔ اس جلوس میں شامل ہزاروں افراد نے قوم پرچم اٹھا رکھے تھے۔

انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کا آج چوتھا دن ہے لیکن بظاہر ان کی صحت اچھی نظر آرہی ہے اور انہوں نے کافی جوش کے ساتھ اپنے مداحوں سے’ جے بھارت’ اور ’وندے ماترم’ کے نعرے لگوائے۔

رام لیلا میدان میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کی گنجائش ہے اور وہاں مظاہرین کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ اگرچہ حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کے پہلے دور میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن اصل جنگ اب شروع ہوگی اور دیکھنا ہوگا کہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے جب ان کی صحت بگڑنا شروع ہوگی تو حکومت کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

لیکن انا ہزارے کی قریبی ساتھی کرن بیدی نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ انا ہزار صرف اسی وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک ان کی صحت اجازت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحت بگڑنے کی صورت میں انہیں فوراً طبی امداد فراہم کی جاسکےگی۔

بعض اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق حکومت میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ابھی فی الحال انتظار کرنا چاہیے کیونکہ یہ تحریک دو چار دن میں ٹھنڈی پڑسکتی ہے لیکن دوسرا موقف یہ ہے کہ جتنے دن یہ دھرنا چلے گا، ٹی چینلوں کے چوبیس گھنٹے کوریج کی وجہ سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچتا رہے گا، لہذا مسئلہ کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کی جانی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رام لیلا میدان میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کی گنجائش ہے

انا ہزارے کی ٹیم سے اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے موقف میں نرمی کرسکتے ہیں۔

ان کے ایک ساتھی سنتوش ہیگڑے نے جمعرات کو کہا کہ اگر پورا تنازعہ وزیر اعظم کو جن لوک پال بل کے دائرے میں شامل کرنے پر ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کو یہ مطالبہ ترک کرنے پر مائل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اروند کیجری وال نے، جو اس تحریک کے نمایاں چہروں میں سےایک ہیں، کہا کہ اگر عدلیہ کے احتساب کے لیے ٹھوس قانون بنایا جائے تو عدلیہ کو بھی اس بل سے باہر رکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ان دو مطالبات پر ہی حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں میں سب سے زیادہ اختلاف ہے۔

اسی بارے میں