بحث سے ایک قدم آگے بھی بڑھنا ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بدعنوانی پورے معاشرے کا مسئلہ ہے

انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کی ہڑتال جاری ہے، ہزاروں لوگ رام لیلا میدان پہنچ رہے ہیں اور میں جتنی بار ٹی وی پر ان کی تصویریں دیکھتا ہوں، میرے ذہن میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے۔

انا ہزارے کے کیمپ میں شامل یہ کون لوگ ہیں، اور کیا چاہتے ہیں؟ کیا یہ سب ایماندار ہیں یا ملک میں صرف یہ ہی ایماندر ہیں؟ اگر یہ تفریح کے لیے آئے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ لوگ بدعنوانی اور رشوت ستانی ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے رام لیلا میدان میں یا کہیں بھی بھوکا بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے؟

کیوں کہ جب وہ کہتےہیں کہ وہ ایک ایسا قانون بنانا چاہتے ہیں جس سے ملک میں بدعنوانی ختم ہو جائے گی، تو شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ دہشتگردی سے لیکر عصمت دری تک، ہر جرم کی سزا دینے کے لیے درجنوں قانون پہلے سے موجود ہیں، لیکن پھر بھی دلی کی سڑکوں پر چلنے والی لڑکی اور ممبئی کی سڑکوں پر کام کے لیے نکلنے والا عام آدمی محفوظ نہیں ہے۔

شور و غل اور حکومت مخالف نعروں میں بات دب سی گئی ہے کہ لیکن ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ایک نئے قانون سےکچھ نہیں بدلنے والا۔ منموہن سنگھ کی بات کو آجکل لوگ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن یہ بات سچ ہے کہ کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے جسے ہلایا جائے اور بدعنوانی ختم ہوجائے۔

میرے ایک ملنے والے دلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انجینئر تھے۔رشوت لینے کے الزام میں معطل ہوئے تو کہنے لگے کہ ’لیتے ہوئے پکڑے گئے تھے، دیکر چھوٹ جائیں گے۔’

مطلب یہ کہ غلط یا صحیح میرا کام ہونا چاہیے، اور جلدی، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

ہندوستان کی کل آبادی کو آسانی سے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ وہ جو بہت غریب ہیں، اور جن کی تعداد کل آبادی کے دو تہائی سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے، ایک متوسط طبقہ اور ایک بہت دولت مند لوگ جو دو تین فیصد سے زیادہ نہیں ہیں، اور ان سب سے الگ سیاست دان۔

جو غریب ہیں ان کو تو اس بحث سے نکال ہی دیجیے، ان کے لیے تو دو وقت کی روٹی کمانا ہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جو بہت امیر ہیں، وہ دو تین فیصد لوگ اس ملک کی پچانوے فیصد دولت کو کنٹرول کرتے ہیں، سب کے بارے میں تو ایک بات سچ نہ ہوتی ہے نہ کہی جانی چاہیے لیکن بہت سی بڑی کمپنیاں کتنی ایماندری سے کام کرتی ہیں، اس کے چرچے آپ نے اخبارات میں پڑھے ہی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کامیابی یہ ہےکہ ملک میں بدعنوانی پر بحث ہو رہی ہے

ان کی حکومت سے سانٹھ گانٹھ کے الزامات پر بحث نئی نہیں ہے اور بدعنوانی کے خلاف موجودہ ماحول میں ٹو جی جیسے گھپلوں کا بڑا کردار ہے۔

لیکن متوسط طبقے کا کیا؟ یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک کی تیز رفتار ترقی کا انجن بتائے جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو انا ہزارے کی ہڑتال میں شامل ہیں یا نہیں بھی ہیں لیکن پھر بھی اس ملک میں بدعنوانی اور ہر دوسری برائی کے لیے سیاست دانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، کیا ان سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ ان کے لیے خود احتسابی کا عمل کہاں سے شروع ہوتا ہے؟

ہم اپنے گریبان میں کتنی بار جھانک کردیکھتے ہیں؟ اگر ہم کوئی چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں، تو ہم میں سے کتنے لوگ اس پر پورا ٹیکس دیتے ہیں، اگر ہم گھر بیچتے یا خریدتے ہیں تو ایک نمبر میں کتنے پیسے لیتے یا دیتے ہیں اور دو نمبر میں کتنے؟ یہ لسٹ لمبی ہے، اور اسے صرف پیسے اور کاروبار تک نہیں زندگی کے ہر شعبے تک پھیلایا جاسکتا۔

حکومت نے گزشتہ چند مہینوں میں یہ تاثر دیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ انا ہزارے نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اسے بہت سے لوگ سیاسی بلیک میل سے تعبیر کر رہے ہیں، لیکن انہیں دھرنے اور بھوک ہڑتال سے روکنے کی کوشش کرکے، اور ان پر بدعنوانی کے الزامات لگاکر حکومت نے پھر یہ تاثر دیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ بدعنوانی کو صرف حکومت ہی بڑھاوا نہیں دیتی، اور نہ ختم کرسکتی ہے، یہ دائرہ منتخب نمائندوں اور سرکاری ملازمین سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ بہت سے لوگ رشوت لیتے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بہت سے کام رشوت دیے بغیر بھی کیے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ رشوت ہمیشہ مجبوری میں نہیں دی جاتی۔

انا ہزارے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہےکہ ملک میں بدعنوانی پر بحث ہو رہی ہے، لیکن آپکو معلوم ہی ہوگا کہ ہندوستانیوں کو بحث کرنے میں مزہ آتا ہے۔ اگر زمین پر صورتحال بدلنی ہے، تو بحث سے ایک قدم آگے بھی بڑھنا ہوگا اور ہوسکتا ہےکہ یہ سفر رام لیلا میدان سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن وہاں سے نہ شروع ہوتا ہے اور نہ ختم۔

اسی بارے میں