بھارت: زیادہ کرکٹ ٹھیک نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پہلے ٹیسٹ سے بھارتی ٹیم کی شرمناک شکست کا سلسلہ جو شروع ہوا وہ ابھی تک رکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ۔

بھارتی کرکٹ ٹیم نے تقریبآ ایک مہینے قبل جس وقت انگلینڈ کی سر زمین پر قدم رکھا اسے ٹیسٹ میچ کی ریکنگ میں دنیا کی سب سے بہترین ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

بھارتی ٹیم کو مضبوط بیٹنگ لائن تصورر کیا جا رہا تھا۔ سبھی کو یقین تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم کے ابھرنے کے باوجود بھارت اپنی اول پوزیشن آسانی سے برقرار رکھ سکے گا۔

پہلا ٹیسٹ میچ شروع ہونے سے پہلے بھارتی کمینٹیٹرز اس خواب کو حقیقت میں بدلتا ہو دیکھ رہے تھے کہ مايۂ ناز بلے باز سچن ٹنڈولکر اپنی تاریخی سویں سنچری لارڈز کے میدان میں ہی بنائیں گے ۔

لیکن پہلے ٹیسٹ سے بھارتی ٹیم کی شرمناک شکست کا سلسلہ جو شروع ہوا وہ ابھی تک رکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ۔

دنیا کی سب سے بہترین بیٹنگ لائن کسی اننگز مین تین سو رنز کے سکور تک بھی نہیں پہنچ سکی اور بولنگ تو ایسی کہ انگلش کھلاڑی پریکٹس کرتے ہوئے محسوس ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

سابق کرکٹر منندر سنگھ کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے دورے کے لیے دراصل بورڈ نے کوئی پلاننگ ہی نہیں کی تھی۔ عالمی کپ جیتنے کے آٹھ دن بعد آئی پی ایل شروع ہو گیا اور آئی پی ایل کے پانچ دن بعد ویسٹ انڈیز کا دورہ۔ بی سی سی آئی کو کھلاڑیون کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ ’اس دورے کے لیے تیاری ہونی چاہئے تھی۔ ویسٹ انڈیز کا دورہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ کھلاڑیوں کو دو سے تین ہفتے پہلے انگلینڈ بھیجنے کی ضرورت تھی تا کہ وہ اپنے آپ کو وہ وہاں کے ماحول سے ہم آہنگ کر پاتے۔‘

بھارت کی سرکردہ تجزیہ کار نیرو بھاٹیہ کہتی ہیں کہ ٹیم کے نئے کھلاڑیوں کو انگلینڈ کی کنڈیشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور ان میں سے بیشتر نے کاؤنٹی میچز بھی نہیں کھیلے ہیں۔ ’انگلینڈ کی کنڈیشن بہت مشکل ہوتی ہے۔ وہاں کامیابی کے لیے ٹمپرامنٹ چاہئے ہوتا ہے، ٹیکنیک چاہئے ہوتی ہے۔ تجربے کی کمی کے سبب ہی نئے کھلاڑیون کو اتنی جدو جہد کرنی پڑ رہی ہے۔‘

نیرو بھاٹیہ کا خیال ہے کہ انگلیند اور آسٹریلیا آج بھی ٹیسٹ میچ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن اس کے بر عکس بی سی سی آئی صرف آئی پی ایل اور ٹی ٹوئنٹی کو ترجیح دے رہی ہے جس کی قیت کرکٹ ٹیم ادا کر رہی ہے۔ ’ہمارے سینیئر پلیرز سچن، راہول ڈریوڈ اور وی وی لکشمن آج بھی اچھی پرفارمنس دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو ہی ترجیح دی ہے۔ بھارتی بورڈ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پیسہ نہین ٹیسٹ میچ کرکٹ کی روح ہے۔‘

انگلینڈ میں بھارتی ٹیم کی شکست کے بعد بی سی سی آئی پر کافی تنقید ہو رہی ہے تو کیا بی سی سی آئی کی سوچ میں کو ئی تبدیلی آئے گی۔ منندر سنگھ کا خیال ہے کہ کچھ کہنا مشکل ہے ’جب بھی طوفان آتا ہے تو اس کے بعد کچھ نہ کچھ شانتی ضرور آتی ہے اور یہ تو بہت بڑا طوفان ہے۔ لیکن بی سی سی آئی میں بہت بے شرم لو گ ہیں وہ انگلینڈ کے بھیانک تجربے سے کچھ سیکھیں گے کہ نہیں یہ صرف وقت بتائے گا۔‘

آئندہ چند مہینوں میں بھارتی ٹیم آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی ہے۔ منندرسنگھ کہتے ہیں کہ اگرچہ آسٹریلیا میں بولنگ کے محاذ پر انگلینڈ جیسی مشکل نہین آئے گی لیکن بھارتی بولنگ اتنی کمزور ہے کہ ٹیم کو زخمی ظہیر خان پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ یہ حالت بہتر کرنی ہو گی۔

انگلینڈ میں چوتھا ٹیسٹ ابھی جاری ہے۔ اگر بھارتی ٹیم یہ ٹیسٹ بھی ہار گئی تو وہ اس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کر سکے گی کہ زیادہ کرکٹ سے ایک بہترین ٹیم کس طرح پستی میں چلی جاتی ہے ۔

یہاں بھارت میں موبائل پر ایک پیغام گردش کر رہا ہے ’تھینک یو انا ہزارے کہ آپ نے کرکٹ سے ہماری توجہ ہٹا دی ہے۔‘

ا