کشمیر: فوجی افسر اور بارہ شدت پسند ہلاک

کشمیر فوج(‌فائل فوٹو)
Image caption یہ تصادم لائن آف کنٹرول پر ہوا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی قصبہ گریز میں کنٹرول لائن کے قریب پانچ مسلح شدت پسندوں کو ایک تصادم کے دوران ایک فوجی افسر اور بارہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوجی ترجمان لیفٹنٹ کرنل ایچ ایس برار نے بی بی سی کو بتایا کہ گریز سیکٹر میں کنٹرول لائن سے مسلح شدت پسندوں کے گروپ نے بھارتی علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو فوج نے ان کے خلاف کارروائی کی۔ ’شدت پسندوں کے ابتدائی حملے میں ہمارا ایک افسر لیفٹنٹ نودیپ بھی مارا گیا۔ابھی مارے گئے شدت پسندوں کی شناخت نہیں کی گئی ۔

گریز میں مواصلاتی نظام نہیں ہے اس لیے آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

سطح سمندر سے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع گریز خطہ سرینگر کے شمال مشرق میں پونے دو سو کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ سرما میں بھاری برف باری کی وجہ سے گریز کئی ماہ تک باقی ریاست سے منقطع رہتا ہے۔ پینتیس ہزار نفوس پر مشتل گریز خطہ دفاعی اعتبار سے نہایت حساس ہے اور یہاں بڑی تعداد میں فوج تعینات ہے۔

فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سنیچر کی صبح ایک بجے کشن گنگا دریاں میں دو کشتیوں میں سوار بارہ مسلح شدت پسند بھارتی علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ ان کا سامنا بھارتی فوج کے ساتھ ہوا۔ ترجمان کے مطابق مارے گئے شدت پسندوں کی تحویل سے جدید قسم دو نیوی کشتیاں، جی پی ایس سسٹم، ایک کمپاس اور بھارتی مقداد ہتھیار و گولی بارود برآمد ہوا ہے۔

واضح رہے کنٹرول لائن پر یہ جھڑپ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل این کے سنگھ کے کئی دوروں کے بعد ہوئی ہے۔ جنرل سنگھ نے پچھلے پندرہ روز میں کشمیر کے تین دورے کیے جس کے دوران انہوں نے کنٹرول لائن کی اگلی چوکیوں کا معائنہ کیا۔

چند ماہ قبل سرینگر میں تعینات پندرہویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل سید عطا حسنین نے کہا تھا کہ پچھلے اکیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ کنٹرول لائن پر مجموعی طور ُپرامن رہی ۔ لیکن جولائی میں کنٹرول لائن کے قریب کئی تصادم آرائیوں میں فوج کے نصف درجن اہلکار مارے گئے اور ان تصادموں میں کئی مسلح شدت پسند بھی مارے گئے۔

اِدھر فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز پونچھ اور راجوری سیکڑوں میں پاکستان اور ہندوستان کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی سینیٹر جان مکین نے گزشتہ دنوں کشمیر آئے اور چین کے ساتھ کشمیر کی سرحدی پٹی کا معائنہ کیا۔ واپسی پر نئی دلّی میں انہوں نے بیان دیا کہ کشمیر میں حالات بہتر ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بہت بڑی وجہ قرار دیا۔

اسی بارے میں