حکومت کی نیت صاف نہیں ہے: انا ہزارے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اناّ ہزارے کی ٹیم کے اروندکیجری وال اور پرشانت بھوشن حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں

بھارت میں حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان بات چیت میں انا ہزارے نے کہا ہے کہ بد عنوانی ختم کرنے کے بارے میں حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔

انا ہزارے نے صبح رام لیلا میدان میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے نمائندوں سے بات چیت میں تمام باتوں کو مان لیا تھا لیکن وہ اب کچھ اہم مطالبات کو ماننےسے انکار کر رہے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ ’بدعنوانی کو ختم کرنے کی ان کی مرضی نہیں ہے۔ حکومت کو ڈر لگتا ہے کہ اگر بد عنوانی ختم ہوگئی تو اپنا حقہ پانی بند ہو جائےگا۔‘

دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق، وزیراعظم کی مداخلت کے بعد انا کے نمائندوں اور حکومت کے نمائندے پرنب مکھرجی کے درمیان منگل کی رات بات چیت شروع ہوئی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ بات چیت بدھ کو بھی ہو گی۔

بد عنوانی پر قابو پانے کے لیے ’جن لوکپال‘ ادارے کے قیام کے مطالبے کو منوانے کے لیے انا ہزارے کی بھوک ہڑتال آج نویں دن بھی جاری ہے۔

ان کی صحت خراب ہو رہی ہے اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹروں نے انہیں ڈرِپ دینے کامشورہ دیا ہے لیکن انا نے کسی طرح کی دوا لینے سے انکار کر دیا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے خواہ ان کی موت ہو جائے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے انا کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے اور ان سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کریں اور اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں۔

اس وقت ساری تشویش انا ہزارے کی صحت کے بارے میں ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ انا کی ہڑتال کسی طرح ختم ہو۔ انا کی صحت مزید خراب ہونے سے حکومت کے لیے پیچیدگی اور بڑھ جائے گی۔

مسٹر سنگھ نے لوک پال بل کے سوال پر مختلف سیاسی جماعتوں کا مؤقف جاننے کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔ حکومت نے انا ہزارے کو یقین دلایاہے کہ وہ ان کے جن لوکپال بل کو غور و خوض کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انا ہزارے کا چھ کلو وزن کم ہوچکا ہے اور ان کی صحت خراب ہوتی جارہی ہے

کئی اہم سوالوں پر بظاہر اتفاق ہو گیا ہے تاہم اب بھی حکومت درمیانی اور چھوٹے درجے کے سرکاری افسروں کو انسداد بد عنوانی کے قانون سے باہر رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ریاستی حکومتوں کے اختیار میں آتا ہے اس لیے مرکز ان کے لیے قانوں نہیں بنا سکتا۔

بات چیت کئی سطحوں پر ہو رہی ہے اور حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کی مدت میں توسیع کرنے سے لےکر ماہرین اور متعلقہ افراد کی ایک ڈرافٹنگ یا مشاورتی کمیٹی تشکیل دینے تک کے سوالات پر غور کر رہی ہے۔

شام تک صورتحال کافی حدتک واضح ہو گی لیکن جب تک حکومت انا ہزارے کے جن لوک پال بل کے بنیادی پہلوؤں کو تسلیم کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر یقین دہانی نہیں کراتی تب تک انا کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

انا ہزارے کا وزن چھ کلو کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔ ادھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں