کشمیر: پانچ اہم سیاسی اور مذہبی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ نے قبول کیا ہے کہ علیحیدٰگی پسند تحریک کے حامی اور معروف عالم دین مولانا شوکت احمد شاہ کشمیری کا قتل شدت پسندوں نے کیا تھا۔

وادی کشمیر میں گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اب تک مولانا کشمیری سمیت پانچ اہم سیاسی اور مذہبی رہنما نامعلوم افراد کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ ان ہلاکتوں کے بارے میں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے پیچھے کون تھا۔

لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وادی میں سرگرم کسی عسکری تنظیم نے یہ تسلیم کیا کہ مولانا شوکت کو شدت پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔

یاد رہے کہ مولانا شوکت رواں سال اپریل میں سرینگر میں ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اور اس واقعہ کے چند ہی گھنٹوں بعد وادی کشمیر میں سرگرم کوئی ایک درجن عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے بیان میں مولانا کے قتل کا الزام ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں پر عائد کیا تھا۔

لیکن اب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم پاکستانی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں ان کی ہلاکت کے بارے میں انکشاف نے اس واقعہ کو ایک نیا رخ دیا ہے۔

جمعیت اہلحدیث کے سربراہ مولانا شوکت ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے پانچویں اہم مذہبی اور سیاسی رہنما تھے جو پچھلے دو دہائیوں سے جاری مسلح تحریک کے دوران نامعلوم افراد کے حملوں میں مارے گیے تھے۔

مئی 1990

اکتیس جولائی سن انیس سو اٹھاسی کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح تحریک کے آغاز کے بعد میرواعظ مولانامحمد فاروق وادی کشمیر کے پہلے اہم مذہبی اور سیاسی شخصیت تھیں جنھیں 21 کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا۔

انھیں سرینگر کے نواح میں واقع نگین میں اپنے گھر پر قتل کیا گیا تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وادی کشمیر میں کسی اہم سیاسی اور مذہبی رہنما کا قتل ہوا تھا۔

20 جون 1994

کشمیر کے ایک اور مذہبی رہنما قاضی نثار احمد نامعلوم افراد کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔ قاضی نثار جنوبی کشمیر کا میر واعظ کہلوائے جاتے تھے۔

نومبر سنہ1998

کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام قادر وانی کو نہ معلوم مسلح افراد نے گھر میں گھس کر ہلاک کیا تھا۔ اس واقعہ میں ان کی بھتیجی ہلاک جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہوگئی تھیں۔

21 دسمبر 1993

خود مختار کشمیر کے ہی حمائتی اور کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالاحد وانی کو کو مبینہ طور ان کے نظریات کی وجہ سے یونیورسٹی کیمپس میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

بھارتی حکام اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی کشمیری شدت پسند تنظیمیں ایک دوسرے کو ان ہلاکتو کا ذمہ دار ٹھراتے رہے۔

رواں سال جنوری میں علحیدگی پسند کشمیری رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ نے سرینگر میں ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار یہ تسلیم کیا تھا کہ کشمیری آزادی پسند رہنماؤں مولانا محمد فاروق اور عبدالغنی لون کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالاحد وانی کے قتل میں بھارتی فوج کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ ان کو اپنوں نے ہی ہلاک کیا تھا۔

وادی کشمیر میں مسلح تحریک کے دوران اب تک کئی اہم سیاسی، مذہبی اور عسکری رہنماؤں کے علاوہ بہت سارے دانشوروں اور ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سیاسی کارکن نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

مولنا شوکت کشمیری کی ہلاکت کے بارے میں انکشاف کے بعد لوگ یہ جاننا چاہیں گے کہ ان افراد کو مارنے والے نامعلوم لوگ کون تھے اور مقتولین کس کے ہتھیار یا باروں سے مارے گئے۔

اسی بارے میں