بھارتی کابینہ نے کھیل بل رد کر دیا

Image caption بھارتی کابینہ کے رکن اور آئی سی سی کے صدر شرد پوار بھی اس بل کے مخالف ہیں

بھارت کابینہ نے ملک کے مختلف سپورٹس اداروں کے معاملات کو شفاف بنانے اور ان کے حکام کی مدتِ ملازمت میں تبدیلیوں کا نیا قانون رد کر دیا ہے۔

بھارت میں کرکٹ بورڈ اور فٹبال ایسوسی ایشن کے کرتا دھرتا سیاستدان اس نیشنل سپورٹس ڈویلپمنٹ بل کے مخالف ہیں اور کابینہ نے وزیرِ کھیل اجے ماكن سے کہا ہے کہ وہ اس کا مسودہ دوبار سے تیار کریں۔

یہ بل گزشتہ برس بھارت میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں بدعنوانی کے معاملات سامنے آنے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کابینہ نے بل میں شامل جن شقوں پر اعتراض کیا ان میں اداروں کی سربراہی کے لیے چار سال کی مدت کا تعین، تیسری مرتبہ سربراہی پر پابندی اور ریٹائرمنٹ کے لیے ستّر برس کی عمر کی حد شامل ہیں۔

جس کابینہ نے اس بل کو رد کیا ہے اس میں پانچ ایسے افراد شامل ہیں جو کھیلوں سے متعلق کسی نہ کسی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں شامل شرد پوار بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے صدر ہیں، ولاس راؤ دیشمکھ ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر، سی پی جوشی راجستھان کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں ، پرفل پٹیل کے پاس اے آئی فٹ بال فیڈریشن کی کمان ہے اور فاروق عبداللہ جموں کشمیر کرکٹ یونین کے صدر ہیں۔

اس بل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے کھیل کی تنظیموں کی خود مختاری متاثر ہوگی جبکہ وزارت کھیل کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے وہ کھیل تنظیموں میں شفافیت لانے کی کوشش کر رہا ہے.

اس بل میں بی سی سی آئی کی اقتصادی جوابدہی کا تعین کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور اسی لیے اسے اطلاعات کی فراہمی کے قانون کے دائرے میں لانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی اس لیے وہ اس بل کے خلاف ہیں۔