مواخذے کا سامنا کرنے والے جج مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سومتر سین پر 33 لاکھ روپے کے غلط استعمال کا الزام ہے

بھارتی پارلیمنٹ میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت عہدے سے برطرفی کی کارروائی کا سامنا کرنے والے کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سومتر سین نے استعفٰی دے دیا ہے۔

جسٹس سومتر سین کے خلاف مالی بدعنوانی اور حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام ہے۔

بھارتی راجیہ سبھا نے گزشتہ ماہ کے وسط میں جسٹس سومتر سین کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کی اکثریتِ رائے سے منظوری دے دی تھی۔

اس تجویز کے حق میں ایک سو نواسی اور مخالفت میں سترہ ارکان نے ووٹ دیا۔ یہ بھارت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے خلاف ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

اب لوک سبھا میں بھی اس معاملے پر پانچ ستمبر کو بحث ہونی تھی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ لوک سبھا میں بھی انہیں عہدے سے ہٹانے کی حمایت کی جائے گی۔

سومتر سین نے پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں خود کو بے قصور قرار دیا تھا اور ووٹنگ کے بعد ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آگے لڑائی لڑیں گے.

تاہم اب سومتر سین نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لوک سبھا میں پیشی کی بجائے استعفٰی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’میں نے اپنا استعفٰی صدر کو بھیج دیا ہے اور اس کی نقل لوک سبھا سپیکر کو بھجوا دی ہے‘۔

ان کے وکیل سبھاش بھٹاچاریہ کے مطابق صدر کو بھیجے جانے والے استعفے میں جسٹس سین نے لکھا ہے کہ چونکہ راجیہ سبھا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ بطور جج کام نہ کریں اس لیے وہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور اب عام شہری کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔

سومتر سین سے پہلے نویں لوک سبھا کے دوران سنہ 1993 میں مدراس کے جسٹس راماسوامي کے خلاف قرارداد لائی گئی تھی لیکن وہ منظور نہیں ہو سک تھی۔

اس دوران بدعنوانی اور غلطِ طرز عمل کے الزامات کا سامنا کرنے والے سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پی دناكرن کے خلاف بھی قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن انہوں نے اس سے پہلے ہی گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

سومترسین پر سٹیل اتھارٹی آف انڈیا اور شپنگ اتھارٹی آف انڈیا کے درمیان عدالتی تنازعہ میں تقریباً 33 لاکھ روپے کے غلط استعمال کا الزام ہے۔

بھارت کے چیف جسٹس اور راجیہ سبھا کے چیئرمین نے الزامات کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی بنائی تھیں اس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سومتر سین نے پہلے وکیل کے طور پر اور بعد میں جج کے طور پر اس بینک اکاؤنٹ سے کئی بار چیک سے اور نقد پیسے نکالے جس کے وہ ریسیور تھے۔

اسی بارے میں