آسام میں قیامِ امن کے لیے معاہدہ

Image caption باغی اور سکیورٹی فورسز ایک دوسرے کو نشانہ نہیں بنائیں گے

بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں قیامِ امن کے لیے حکومت اور باغیوں کی کالعدم تنظیم یونائیٹڈ فرنٹ آف آسام یعنی الفا نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔.

اس معاہدے کو حکومت اور الفا کے درمیان ریاست میں امن کے قیام کی کوششوں کی شروعات سمجھا جا رہا ہے۔

سنیچر کو آپریشن کے تعطل کے معاہدے پر مرکزی اور ریاستی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ’الفا‘ کے رہنما نے دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت اب الفا باغی اس وقت تک کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کریں گے جب تک ریاست میں بغاوت کا حل نہیں نکل آتا۔ معاہدے کے تحت سکیورٹی فورسز بھی الفا باغیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق نئی دلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی وزارت داخلہ میں شمال مشرقی امور کے اہم افسر شبھ سنگھ نے کہا ’فریقین کے درمیان بہت اچھی بات چیت ہوئی۔ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ بات چیت کے اس پہلے دور میں سیاسی مذاکرات کے لیے راستہ کھلا ہے اور یہی اب مستقبل میں ہونے والی بات چیت کے لیے سمت متعین کرے گا‘۔

اس ملاقات میں معاہدے کے قوانین اور امن کو برقرار رکھنے کے خیالات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ معاہدے کے مطابق باغی گروپ کے قریباً چھ سو ارکان کو ایک خصوصی کیمپ میں رکھا جائے گا۔

تاہم جب الفا کے رہنماؤں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ہتھیار حکام کے حوالے کر دیں گے تو انہوں نے فوری طور پر کہا، ’ہم ایسا کیوں کریں. یہ کوئی آخری معاہدہ نہیں ہے۔ ہم دیکھنا چاہیں گے کہ بات چیت آگے کس سمت میں بڑھتی ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ الفا نے مرکزی حکومت کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے بھارتی آئین میں ترمیم کی بات کی تھی۔

اسی بارے میں