لشکرطیبہ: ’کشمیر کےعلاوہ کوئی ایجنڈا نہیں‘

ایف بی آئی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گزشتہ دنوں ایف بی آئی نے ایک پاکستانی شہری کو امریکہ میں گرفتار کیا تھا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سرگرم کالعدم مسلح گروپ لشکر طیبہ نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کا انڈین کشمیر کے سوا دُنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔

لشکر کے ترجمان ڈاکٹرعبداللہ غزنوی کا کہنا ہے: ’امریکی اداروں کی طرف سے گرفتار کئے گئے پاکستانی نوجوان جُبیر احمد کا لشکر طیبہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لشکر کے نام سے یہ گرفتاری امریکہ میں کشمیری تنظیموں کیخلاف اُسی پروپگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی تحریک آزادی کو بدنام کرنا ہے۔‘

لشکر ترجمان نے کہا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ ہمارا کوئی گلوبل ایجنڈا نہیں ہے۔ اور نہ ہی کشمیر کے باہر دنیا کے کسی حصہ میں ہمارا کوئی نیٹ ورک ہے۔

واضح رہے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے گزشتہ روز ایک پاکستانی نژاد شخص کو شدت پسندگروپ لشکرِ طیبہ کی مدد کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔

حکام کے مطابق شمالی ورجینیا سے گرفتار کیے جانے والےچوبیس سالہ پاکستانی جبیر احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی ملک میں لشکرِ طیبہ کی مدد کرنے کی کوشش کی اور دہشتگردی کے خلاف تحقیقات میں حکام سے غلط بیانی کی۔

امریکی حکام نے سنہ 2001 میں لشکرِ طیبہ کو غیرملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔

انہیں جمعہ کو ورجینیا کے علاقے الیگزینڈریا میں جج کے سامنے پیش کیا گیا جس نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرنے اور اس وقت تک جبیر کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

ورجینیا کی عدالت میں استغاثہ کی جانب سے داخل کردہ بیانِ حلفی میں کہا گیا ہے کہ جبیر احمد نے سنہ دو ہزار چار میں اپنے لڑکپن میں، لشکرِ طیبہ کے تربیتی کورس میں شرکت کی تھی اور وہ ایک موقع پر کمانڈو کورس کا بھی حصہ رہے تھے۔

جبیر احمد نے سنہ دو ہزار چار میں اپنے لڑکپن میں، لشکرِ طیبہ کے تربیتی کورس میں شرکت کی تھی اور وہ ایک موقع پر کمانڈو کورس کا بھی حصہ رہے تھے۔ تاہم انہیں ایک ہفتے بعد ہی ان کے انسٹرکٹر نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا تھا کہ وہ ابھی کم عمر ہیں۔

تاہم انہیں ایک ہفتے بعد ہی ان کے انسٹرکٹر نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا تھا کہ وہ ابھی کم عمر ہیں۔

ان پر سنہ دو ہزار دس میں یو ٹیوب پر لشکرِ طیبہ کی حمایت میں ایک ویڈیو شائع کرنے کا بھی الزام ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ جبیر نے اس ویڈیو کی تیاری کے سلسلے میں لشکرِ طیبہ کے رہنما حافظ سعید کے بیٹے سے بھی رابطے کیے۔

استغاثہ کے مطابق ویڈیو میں بھی حافظ سعید کی تصاویر شامل کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ اس میں بموں کا نشانہ بننے والے ٹرکوں اور لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے جہادیوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جب گزشتہ ماہ انہوں نے جبیر سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے اس ویڈیو سے لاتعلقی ظاہر کی جو کہ جھوٹ تھا۔

جبیر احمد سنہ دو ہزار سات میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ امریکہ آیا تھا اور سنہ دو ہزار نو میں ایف بی آئی نے یہ اطلاعات ملنے پر کہ جبیر کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہو سکتا ہے، تحقیقات شروع کی تھیں۔

اسی بارے میں