دلی دھماکہ، مشتبہ افراد کے خاکے جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس کے خاکے کے مطابق ایک شخص جوان ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی میں ہائی کورٹ کے احاطے کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں دلی پولیس نے دو مشتبہ افراد کے خاکے جاری کیے ہیں۔ بم دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دلی: بم دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک

پولیس نے جو خاکے جاری کیے ہیں وہ بم دھماکے کے دو عینی شاہدوں کے بیانات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص تقریبا پچیس برس کا بتایاجاتا ہے اور اس کا قد پانچ فٹ نو انچ کے آس پاس بتایاجاتا ہے۔

خاکے میں اس نوجوان مشتبہ شخص کے چہرے پر ہلکی داڑھی ہے اور مونچھیں نہیں ہیں۔ سر کے بال اوسط لمبائی کے ہیں۔ چہرہ لمبا اور آنکھیں بھوری لگتی ہیں۔

جبکہ دوسرا مشتبہ شخص پچاس برس کا بتایا جاتا ہے۔ خاکے میں اس کے سر کے بال بہت چھوٹے دکھائے گئے ہیں لیکن وہ گھنگریالے لگتے ہیں۔ اس شخص نے داڑھی اورمونچھیں دونوں رکھی ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوسرے مشتبہہ شخص کی عمر تقریبا پچاس برس کی بتائی گئی ہے

اندورنی سلامتی کے داخلہ سکریٹری یو کے بنسل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بم دھماکے میں اب تک گیارہ افراد ہلاک اور 76 زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں کم ازکم دو افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ بم ایک بریف کیس میں رکھا گیا تھا اور دھماکے کے لیے نائٹریٹ کا استعمال ہوا ہے۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس مقام پر ایک گڈھا بن گیا ہے۔

مسٹر بنسل نے بتایا کہ قومی تفتیشی ایجنسی یعنی این آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے اور فورنسک کے ماہرین نے سراغ حاصل کرنے کے لیے جائے وقوعہ سے دھماکے کے اجزاء اور باقیات جمع کر لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سبھی ریاستوں میں عمومی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور دلی کے ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، سرایوں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور چھان بین کی جا رہی ہے۔

اس دھماکے کے لیے اگرچہ حرکت الجہاد الاسلامی نامی ایک تنطیم نے ای میل بھیج کر ذمہ داری قبول کی ہے لیکن تفتیشی اداروں نے ابھی تک اس سلسلے میں کسی کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔

بدھ کی صبح سوا دس بجے دلی کی ہائی کورٹ کے احاطے میں ایک زودار دھماکہ ہوا تھا جس میں گیارہ افراد ہلاک اور چھہتّر زخمی ہوئے ہیں۔

حکام اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں