ہائی کورٹ دھماکہ: این آئی اے کشمیر میں

دلی دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تفتیشی ایجنسیاں دھماکے کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں

بھارت کے زیرانتظام جموں کشمیر کے کشتواڑ ضلع میں قائم ایک انٹرنیٹ کیفے میں جمعہ کے روز بھی تفتیشی اداروں کی سرگرمی جاری ہے جس کے دوران ایک اور طالب علم کو حراست میں لیا گیا۔

بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی ایک ٹیم ایس ایس پی شِو کمار کی سربراہی جمعہ کی صبح ہی کشتواڑ پہچنی۔ ریاستی پولیس کے تکنیکی ماہرین اور سکیچ بنانے والے فنکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

سینئر پولیس افسر منیش کشور سنہا نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمپیوٹر علوم کے طالب علم شعیب احمد شیخ کو جمعہ کی صبح حراست میں لیا گیا۔

اس سے قبل جمعرات کو گلوبل انٹرنیٹ کیفے کے مالک محمود عزیز خواجہ ، ان کے بھائی خالد عزیز اور کیفے کے منیجر اشونی کمار کو حراست میں لیا گیا تھا۔

بعد ازاں پوچھ تاچھ کے دوران ہی کیفے کے نزدیک واقع ایک کالج کے دو طالب علموں عاشق حسین اور محمد عمران کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق عمران کو کچھ شرائط کی بنا پر رہا کیا گیا، لیکن جمعہ کی صبح شعیب شیخ کو حراست میں لیا گیا۔ مسٹر سنہا نے اس بات کی تصدیق کی کہ '' کچھ لوگوں کو ہم نے باقاعدہ گرفتار کیا ہے۔''

جمعہ کے روز حراست میں لیےگئے شعیب احمد شیخ کے بارے میں مقامی شہری آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گلوبل سائبر کیفے کے قریب رہتے ہیں اور وہاں کمپیوٹر کی مہارت حاصل کرنے کے لیے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جائے واردات سے تفتیش کے لیے کافی چیزیں برآمد ہوئی ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ای میل بدھ کو دوپہر دو سے تین بجے کے درمیان بھیجا گیا تھا تاہم انٹرنیٹ کیفے کے مالک محمود عزیز اور ان کے دو ملازمین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

دریں اثنا نئی دلّی میں بھارتی وزیرداخلہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ '' ہم ایک ایسے شخص سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں، جس پر شبہہ ہے کہ اسی نے وہ ای میل پیغام کشتواڑ کی اس کیفے سے بھیجا تھا۔''

قابل غور بات یہ ہے کہ بدھ کو میڈیا اداروں کو ملنے والے اس انٹرنیٹ پیغام میں مسلح تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی نے نئی دلّی کے ہائی کورٹ احاطے میں ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ افضل گورو کو سنائی گئی پھانسی کی سزا واپس نہ لی گئی تو عدلیہ کے تمام اداروں کو نشانہ بنایا جائےگا۔

اس کے بعد '' انڈین مجاہدین '' سمیت دو تنظیموں نے بھی اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران محمود عزیز نے کہا ہے کہ ان کے کیفے میں اکثر کالج کے طلباء آتے ہیں اور بدھ کی دوپہر بھی ایک طالبِ علم کندھوں پر بستہ لادے ہوئے کیفے میں آیا تھا۔

اسی بارے میں