آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 ستمبر 2011 ,‭ 08:17 GMT 13:17 PST

دلی ہائی کورٹ کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

حکومت نے دلی ہائی کورٹ میں سکیورٹی کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ہائی کورٹ کے احاطے میں مزید تقریبا پچاس سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

بدھ کے روز دلی ہائی کورٹ کے احاطے میں ہوئے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیرہ ہوگئی ہے جبکہ درجنوں زخمیوں کا اب بھی ہسپتالوں میں علاج ہو رہا ہے۔

دلی ہائی کورٹ کے احاطے میں اس وقت تقریبا اکیس کیمرے لگے ہوئے ہیں لیکن بدھ کے روز دھماکے کے بعد اس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گيا ہے۔

واضح رہے کہ اس برس پچیس مئی کو بھی دلی ہائی کورٹ کے اسی علاقے میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد حکام نے سکیورٹی بڑھانے کی سفارشات کی تھیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوا تھا۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر گیٹ نمبر پانچ کے آس پاس کیمرے لگے ہوتے تو شاید حملہ آوروں یا بم نصب کرنے والوں کی شناخت میں آسانی ہوتی۔

ہائی کورٹ کے آس پاس اب بھی زبردست سکیورٹی ہے

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سکیورٹی کی بابت ہائی کورٹ کے ایک اعلی سطح اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔

اس اجلاس کی صدارت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کی جس میں ریاستی حکومت کے خصوصی سکریٹری اور دلی پولیس کے اعلٰی افسران سمیت کئی سینئر حکام نے شرکت کی۔

بدھ کے روز دھماکہ کے بعد سے پولیس پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی ہورہی ہے کہ ایک بار دھماکہ ہونے کے باجود اس جگہ سکیورٹی کے انتظامات آخر کیوں نہیں کیے گئے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گيا ہے کہ ہائی کورٹ کے سب ہی داخلی دروازوں پر گاڑیوں کی سکریننگ کا بھی انتظام کیا جائیگا۔

ہائی کورٹ کے آس پاس ٹریفک نظام کو بھی درست کیا جائیگا اور کوشش اس بات کی ہوگی کہ اس جانب ٹریفک کم ہوجائے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔