دلّی دھماکہ:ہندوؤں سمیت آٹھ کشمیری زیرِحراست

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دہلی ہائی کورٹ پر بم حملے کی ذمہ داری تین مختلف تنظیموں نے قبول کی تھی۔

بھارتی ہائی کورٹ میں سات ستمبر کو ہوئے بم دھماکے کے حوالے سے بھیجی گئی ای میل سے متعلق تفتیش کے دوران بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے کشتواڑ قصبے میں این آئی اے نے چار ہندو نوجوانوں سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کو یہ ای میل مبینہ طور مسلح گروپ حرکت الجہاد اسلامی نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر سےبھیجی گئی تھی جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

دلی دھماکہ: ذمہ داری کا ایک اور دعویٰ

ہائی کورٹ دھماکہ: این آئی اے کشمیر میں

حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے اور بلا لحاظِ مذہب یا فرقہ تمام مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ ہوگی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھ رہے ہیں کہ کوئی بے قصور شخص نہ پکڑا جائے۔

جمعرات کو شبانہ چھاپوں کے دوران این آئی اے اہلکاروں نے کشتواڑ کے سرکوٹ گاؤں سے سنّی شرما، سنجے کمار اور راجندر کمار کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا۔ جس انٹرنیٹ کیفے سے میل ارسال ہوئی ہے اس کے منیجر اشونی کمار کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ہم باریک بینی سے تفتیش کررہے ہیں۔ اس میں ہندو یا مسلم کی تفریق نہیں ہے۔ جو بھی ہماری تفتیش کے دائرے میں ہے اس سے پوچھ گچھ ہوگی۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔‘

دریں اثنا تفتیش کے ساتھ جڑے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ گلوبل کیفے کے کیبن نمبر تین میں موجود جس کمپیوٹر سے حرکت الجہاد اسلامی کا مبینہ ای میل پیغام بھیجا گیا ہے، اس میں بھیجنے کا وقت ایک بجکر اڑتیس منٹ ہے۔ لیکن میڈیا اداروں کو یہی پیغام ایک بجکر چودہ منٹ پر موصول ہوا ہے۔ اس کمپیوٹر کو سیل کر دیا گیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے اس میں موجود مواد کی مزید جانچ کے لئے اسے حیدرآباد بھیجا جائے گا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا ’ہم سات ستمبر کو ایک بجے سے لیکر اڑھائی بجے تک گلوبل کیفے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے سبھی لوگوں کی پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔ جن لوگوں سے پوچھ گچھ ہورہی ہے انہوں نے اسی وقت کے درمیان میں کیفے کے اندر انٹرنیٹ استعمال کیا ہے۔‘

پولیس حراست میں چار ہندو نوجوانوں کے بارے میں پولیس نے کچھ نہیں بتایا۔ مقامی شہری شہزاد ملک کے مطابق سنی شرما، سنجے اور راجندر مقامی کالج یا ہائرسیکنڈری سکول کے طلبا ہیں۔

اس دوران تفتیشی اداروں نے کشتواڑ کے ڈگری کالج اور سکول کے داخلہ رجسٹروں کا بھی باریکی سے معائینہ کیا ہے۔

تفتیش کرنے والے افسروں کا کہنا ہے کہ ’یہ ای میل سچ میں حرکت الجہاد اسلامی کی بھی ہوسکتا ہے اور کسی کی شرارت بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دھماکے کی تفتیش کا رُخ موڑنے کی ایک کوشش ہو۔ لیکن ہمارا کام ای میل کرنے والے شخص کی نشاندہی کرکے اسے گرفتار کرنا ہے۔‘

ڈگری کالج کے تین مسلم طلبا محمد عمران، عاشق حسین اور شعیب شیخ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے ابھی تک صرف عمران کو رہا کیا گیا ہے لیکن ان سے کہا گیا ہے کہ وہ تفتیش مکمل ہونے تک قصبہ چھوڑ کر نہ جائیں۔

'قابل غور بات یہ ہے کہ بدھ کو میڈیا اداروں کو ملنے والے اس انٹرنیٹ پیغام میں مسلح تنظیم حرکت الجہاد اسلامی نے نئی دلّی کے ہائی کورٹ احاطے میں ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ افضل گورو کو سنائی گئی پھانسی کی سزا واپس نہ لی گئی تو عدلیہ کے تمام اداروں کو نشانہ بنایا جائےگا۔ لیکن بعدازاں ’انڈین مجاہدین‘ سمیت دو تنظیموں نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اِدھر افضل گورو نے تہاڑ جیل سے لکھے گئے ایک خط میں ہائی کوٹ دھماکہ کی مذمت کی ہے اور اسے بربریت سے تعبیر کیا ہے۔ کشمیر کی سبھی علیحدگی پسند جماعتوں نے بھی اس حملے کو دہشت گرد کارروائی قرار دیینے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں