کشمیر: ’اڑتیس قبرستانوں کی نشاندہی‘

قبریں (کشمیر) تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں بہت سے افراد لاپتہ ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سرگرم ہیومن رائٹس فورم نے شمالی کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اڑتیس قبرستانوں کی نشاندہی کی ہے جن میں درجنوں نامعلوم قبریں اور اجتماعی قبریں موجود ہیں۔

فورم نے جمعہ کے روز ایک ’جائزہ رپورٹ‘ جاری کی جس کے مطابق ان قبروں میں دفن لوگوں میں اکثر ایسے ہی جنہیں فوج یا پولیس نے فرضی جھڑپوں میں ہلاک کر کے پاکستانی شدت پسند بتایا تھا۔

سرینگر سے ریاض مسرور نے بتایا کہ سابق مسلح کمانڈر محمد احسن اونتو اس فورم کے سربراہ ہیں۔ انہیں طویل قید کے بعد چند ماہ قبل رہا کیا گیا۔ ہیومن رائٹس فورم نے یہ رپورٹ حکومت کے انسانی حقوق کمیشن کے حالیہ انکشاف کے ردعمل میں جاری کی ہے۔

مسٹر اونتو نے بی بی سی کو بتایا ’حکومت نے اعتراف کیا ہے، یہ اچھی بات ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر میں اڑتیس مقامات پر قبریں ہیں، ہم نے جب ڈھونڈا تو ہمیں پانچ ہزار نفوس کی آبادی والی ایک چھوٹی بستی میں اڑتیس قبرستان ملے۔‘

اس رپورٹ کے مطابق سرینگر سے ایک سو سولہ کلومیٹر دُور کنٹرول لائن کے قریب واقع وادی لولاب کی ’دی ور‘ بستی میں پچھلے اکیس سال کے دوران سو سے زائد افراد مارے گئے جن میں سے سینتیس ایسے افراد کی شناخت ہوچکی ہے جنہیں فرضی جھڑپوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔

مسٹر اونتو کا کہنا ہے ’ان سینتیس افراد میں آٹھ مسلح شدت پسند بھی ہیں۔ لیکن حیرت ہے انہیں بھی ہلاکت کے بعد پاکستانی اور افغانی باشندے قرار دے کر گاؤں والوں کے سپرد کیا گیا تھا۔‘

رپورٹ کے مطابق اس گاؤں میں مزید آٹھ افراد لاپتہ ہیں۔

ان ہلاکتوں میں محمد کریم وار اور اس کے چار بیٹوں کا ذکر بھی ہے جنہیں فرضی جھڑپوں میں ہلاک کیا گیا اور پاکستانی یا افغانی باشندے بتا کر دفن کیا گیا ۔

کریم وار کے باقی دو بیٹے اب پسماندگان کی کفالت کی کوشش کررہے تھے کہ دو ہزار ایک میں ان کا ایک اور بیٹا لاپتہ ہوگیا۔

اس کنبے میں کئی خواتین اور بچوں کی کفالت اب مسٹرکریم کے آخری بیٹے پینتیس سالہ انظروار کرتے ہیں۔

انظر نے بی بی سی کو بتایا ’تیرہ روز تک ہم ڈھونڈتے رہے کہ ہمارے والد اور بھائی کہا ہیں۔ پھر پتہ چلا کہ ان میں سے ایک کو کپواڑہ میں دفن کیا گیا ہے۔اور بعد میں اصل کہانی سامنے آئی۔‘

ہیومن رائٹس فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے کمیشن کو تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے کیونکہ کشمیر کے ہر ضلع میں گمنام قبریں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں سرگرم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے آٹھ سے دس ہزار افراد لاپتہ ہیں اور اس کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار خواتین ’نصف بیوہ‘ ہیں۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اکیس سال کے دوران ہوئی ہلاکتوں کے بارے میں جنوبی افریقہ کی طرز پر ’ٹروتھ اینڈ ری کانسلی ایشن‘ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ تمام سیاسی گروپوں کو اس حوالے سے اتفاق رائے قائم کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں