دلی دھماکہ، این آئی اے کے خلاف ہڑتال

عابد تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دلی بم دھماکے کا ابھی سراغ نہیں لگ سکا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کشتواڑ میں پچھلے پانچ روز سے این آئی اے کے ذریعہ کم سن لڑکوں کی گرفتاریوں اور طلبا کو ہراساں کرنے کی کاروائیوں کے خلاف پیر کے روز ہڑتال کی گئی۔

ہڑتال کی کال اتوار کی شب ایک احتجاجی دھرنے کے بعد مقامی جامع مسجد کے امام فاروق احمد کچلو نے دی تھی۔

مقامی باشندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے پانچ روز کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن سولہ سالہ عابد حسین اور شارق خاور کی گرفتاری کے بعد پورے ضلع میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اتوار کی شام یہ افواہ پھیل گئی کہ دونوں میں سے ایک نوجوان پر پولیس نے تشدد کیا ہے جس کے بعد اس کی حراست کے دوران ہی موت ہوگئی۔ اس کے بعد اتوار کی شب مقامی لوگوں نے جن میں خواتین بھی تھیں، پولیس تھانہ کے باہر دھرنا دیا۔

پولیس حکام نے شارق اور عابد کے والدین کو ان سے ملوایا تو مظاہرین منتشر ہوگئے۔ لیکن مقامی جامع مسجد کے امام فاروق کچلو نے کہا کہ’ ہم ہائی کورٹ بم دھماکہ کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ تو دہشت گردی ہے۔ لیکن یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ این آئی اے کے افسر اندھیرے میں تیر مار رہے ہیں اور ہمارے بچوں کا جینا حرام کررہے ہیں‘۔

مسٹر کچلو نے بعد میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پیر کو احتجاج کے طور پر ہڑتال کریں۔ ہڑتال کے سبب ٹرانسپورٹ، تعلیمی ادارے، بینک اور سرکاری دفاتر بند رہے۔

واضح رہے کہ این آئی اے کی ایک ٹیم ایس ایس پی شو کمار کی قیادت میں نو ستمبر کو کشتواڑ پہنچی تھی اور مقامی پولیس کے تعاون سے اُس ای میل پیغام کا سراغ لگانے میں لگ گئی جو خفیہ اداروں کے مطابق کشتواڑ کے’گلوبل انٹرنیٹ کیفے‘ سے بھیجی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TV Grab
Image caption چار ہندوؤں سمیت دس نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔

یہ ای میل مبینہ طور مسلح گروپ حرکت الجہاد الاسلامی نے ہائی کورٹ دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے میڈیا اداروں کو ارسال کیا تھا۔

تفتیشی کاروائیوں کے دوران این آئی اے نے چار ہندوؤں سمیت دس نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے جن میں سے بعض کو رہا کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس دوران ضلع کے تقریباً ہر تعلیمی ادارہ کے نوجوانوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور ابھی تک ستّر طلبا سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

تازہ کاروائی میں گرفتار کیےگئے سترہ سالہ عابد حسین بھوانی کے بارے میں مقامی شہریوں نے بتایا کہ اس نے چھ سال قبل اپنی ماں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا اور اس واقعہ کا اس کے دل و دماغ پر اثر پڑا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے بہانے گرفتار کیے جانے والے نوجوانوں کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے جس سے وہ ذہنی طور متاثر ہوئے ہیں۔ امام جامع مسجد فاروق کچلو کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں اور چھاپوں کی وجہ سے ضلع میں خوف کی لہر پائی جاتی ہے۔

جموں کے صحافی پردیپ دتہ نے بی بی سی کو بتایا’لگتا ہے کہ جو لوگ تفتیش کر رہے ہیں ، وہ نہ تو مہارت رکھتے ہیں نہ تجربہ۔ یہ لوگ اب خفیہ پولیس کی طرف سے تیار کیے گئی مظاہروں کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، اور چاہتے ہیں جو لوگ پتھراؤ کر رہے ہوں، ہوسکتا ہے وہی ان دھماکوں میں ملوث ہوں۔ یہ تو ناقابلیت کا کھلا مظاہرہ ہے‘۔

اسی بارے میں