گمنام قبریں: ’اقوام متحدہ تفتیش کرے‘

سید علی گیلانی
Image caption گیلانی کے مطابق بھارتی ادارے انصاف دلانے میں ناکام رہے ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے معروف رہنماء سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ گزشتہ کئی سال سے گمنام قبروں کی بابت ہونے والے انکشافات کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے ایک خصوصی کمیشن کو کشمیر روانہ کرے۔

علی گیلانی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہاں کے وزیراعلٰی عمرعبداللہ کی اس تجویز کو مسترد کردیا جس میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی افریقہ کی طرز پر کشمیر میں ’ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن‘ بنایا جائے تاکہ پچھلے اکیس سال کے دوران ہوئی ہلاکتوں کی نئے سرے سے تفتیش ہو سکے۔

کشمیر: ’اڑتیس قبرستانوں کی نشاندہی‘

انہوں نے کہا ’ کشمیری عوام پچھلے چونسٹھ سال سے ظلم سہہ رہے ہیں اور انصاف کا انتظار کررہے ہیں۔ یہاں کی جو عدالتیں ہیں وہ پولیس کے تابع ہیں اور جب مظلوم ان سے رجوع کرتے ہیں تو وہ انصاف فراہم نہیں کرتیں۔ اسی نظام کے تحت جب کوئی کمیشن گمنام قبروں کی تفتیش کرے گا تو انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی کشمیر میں ہزاروں افراد لا پتہ بتائے جاتے ہیں

سرینگر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ پچھلے تین سال سے کشمیر کی حکومت نے کئی علیٰحدگی پسند رہنماؤں سمیت بیاسی سالہ علی گیلانی کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگا رکھی ہے۔

ان کے بقول ’مقامی عدلیہ کے افسران پولیس سے ڈکٹیشن لیتے ہیں اور اپنی کرسیاں بچاتے ہیں۔ جس سسٹم میں عدالتیں ہی ناانصافیوں کا سبب بن رہی ہوں ، وہاں کسی ظلم کی مقامی طور تحقیات غیرجانبدار نہیں ہوسکتی۔‘

انہوں میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دے کر کہا ’جس ریاست کی پولیس کا سربراہ خود فرضی جھڑپوں کے معاملوں میں براہ راست ملوث ہو، وہاں کی پولیس شہریوں کے حقوق کا کیا پاس و لحاظ کرے گی۔‘

پولیس سربراہ کلدیپ کھڈا پر الزام ہے کہ انہوں نے کئی سال قبل جموں کے بٹوٹ علاقہ میں چار نوجوانوں کو فرضی جھڑپوں میں ہلاک کرکے دریائے چناب میں پھینک دیا تھا تاہم ایک نوجوان جان بچا کر بھاگ گیا تھا۔

سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ خود شمالی کشمیر کے کچہامہ گاؤں گئے جہاں انہیں لوگوں نے بتایا کہ فوج اکثر نوجوانوں کو ہلاک کرتی ہے اور پھر کوئی شناخت مہیا کیے بغیر مقامی لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ انہیں دفن کردیں۔

واضح رہے کہ پچھلے تین سال کے دوران انسانی حقوق کے کئی اداروں نے کشمیر میں ایسے درجنوں قبرستانوں کا پتہ لگایا تھا جن میں اجتماعی قبریں اور گمنام قبریں ہیں۔

اسی بارے میں