’کشمیریوں کے بارے ہم سے پوچھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مقامی پولیس کے سربراہ کلدیپ کمار کھڈا نے بھارت کے تمام صوبوں کی پولیس کے سربراہان کو تحریری طور آگاہ کیا ہے کہ وہ مختلف بھارتی شہروں میں مقیم کشمیریوں کی گرفتاری سے پہلے جموں کشمیر پولیس سے رابطہ کریں۔

مسٹر کھڈا نے سات ستمبر کو دلّی کے ہائی کورٹ میں ہوئے بم دھماکے کے بعد راجھستان میں دو کشمیریوں کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار کرنے کے واقعے کے بعد بھارتی صوبوں کے پولیس سربراہان کو یہ پیغام بھیجا ہے۔

مسٹر کھڈا نے اس تحریری پیغام میں لکھا ہے ’کشمیریوں کے بارے میں ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اگر آپ کو کسی کشمیری پر محض شک ہے، تو اس کا نام پتہ وغیرہ ہم کو بتائیں، ہم آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔ لیکن محض اس لیے کہ کوئی شخص کشمیری ہے، اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔‘

واضح رہے سات ستمبر کو نئی دلّی کے ہائی کورٹ احاطے میں بم دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک اور اسّی سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے سے متعلق دلّی اور مبمئی کے میڈیا اداروں کو ایک ای میل پیغام موصول ہوا تھا جس میں حرکت الجہاد اسلامی نامی مسلح گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بعد میں خفیہ اداروں نے اس ای میل کا سراغ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب مغربی ضلع کشتواڑ میں ڈھونڈ نکالا۔ کشتواڑ میں پچھلے پانچ روز سے اس انٹرنیٹ کیفے کی جانچ ہورہی ہے جس کے بارے میں خفیہ اداروں کو یقین ہے کہ ای میل اسی میں رکھے ایک کمپیوٹر سے بھیجا گیا تھا۔

اس ای میل کی تفتیش کے سلسلے میں کشمیر کے کشتواڑ قصبہ میں این آئی اے نے چار ہندونوجوانوں سمیت کم از کم دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں دو کم سن لڑکے بھی شامل ہیں۔ پیر کے روز ان گرفتاریوں کے خلاف ضلع میں ہڑتال کی گئی۔

اسی بارے میں