دلی دھماکہ: ای میل بھیجنے والاگرفتار

Image caption دلی ہائی کورٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور چھہتر افراد زخمی ہوئے تھے

بھارتی ریاست گجرات میں پولیس نےگزشتہ ہفتے دلی میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری ای میل کے ذریعے قبول کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی ای میل بھیجنے والے کمپیوٹر آپریٹر مانو اوجھا کو ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مانو اوجھا کی گرفتاری سے بھارتی مجاہدین کا دعویٰ جس میں انہوں نے بم دھماکے کی ذمہ داری کی تھی جعلی ثابت ہو گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تیئس سالہ اوجھا ایک کمپیوٹر ہیکر ہیں اور انہوں نے ای میل بھیجتے ہوئے غیر ملکی شدت پسندوں کا نام استعمال کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کو نئی دلّی کی عدالتِ عالیہ کے باہر ہوئے بم دھماکے کے سلسلے میں بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں پولیس نے تفتیش کے لیے ایک انٹرنیٹ کیفے کے مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیا تھا۔

واضح رہے کہ دلی ہائی کورٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور چھہتر افراد زخمی ہوئے تھے۔

بھارتی وزیرِداخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ حملہ ملک میں موجود شدت پسند گروپوں نے کیا ہو۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیموں حرکت الجہاد الاسلامی اور انڈین مجاہدین نے دلی ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ان دونوں تنظیموں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے اور ان کے القاعدہ کے ساتھ مبینہ رابطے ہیں۔

اسی بارے میں