کشمیر:’جھڑپ میں لشکر کا کمانڈر ہلاک‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کیا تھا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی قصبہ سوپور میں منگل کو ایک جھڑپ کے دوران پاکستانی مسلح شدت پسند کمانڈر عبداللہ یونی مارے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق تصادم کے دوران ایک پولیس افسر بھی زخمی ہوگیا ہے۔

پولیس نے اس ہلاکت کو ’بہت بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے اور کہا کہ عبداللہ یونی پولیس کو کئی سال سے مطلوب تھے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال معروف عالم دین مولانا شوکت احمد شاہ کے قتل کے سلسلے میں پولیس نے جن آٹھ افراد کے خلاف فردجرم عائد کی تھی ان میں عبداللہ یونی بھی شامل تھے۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بنیادی ملزم جاوید منشی عرف بل پاپا کو بارود فراہم کیا تھا۔ تاہم لشکر طیبہ کی طرف سے جاری کی گئی ’تفتیشی رپورٹ‘ میں تنظیم نے جاوید منشی سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ جاوید نے عبداللہ کو نہیں بتایا تھا کہ وہ بارود کا استعمال کس کے قتل میں کر رہا ہے۔

سوپور پولیس کے سربراہ ایس پی امتیاز حُسین نے بی بی سی کو بتایا ’ہمیں پیر کی شب ہی خفیہ اطلاع ملی تھی کہ سوپور کے باغات بٹہ پورہ علاقہ میں مسلح شدت پسند موجود ہیں۔ ہم نے فوج کے اشتراک سے اس بستی کا محاصرہ کیا‘۔

مسٹر حسین کے مطابق منگل کی صبح عبدالاحد نائیکو کے مکان کی ایک کھڑکی سے پولیس اور فوج پر گولیاں چلائی گئیں تاہم کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالاحد نائیکو کا بیٹا مظفرنائیکو بھی پچھلے سات سال سے لشکر طیبہ کے ساتھ وابستہ ہے اور فورسز کو شدت کے ساتھ مطلوب ہے۔ مسٹر حسین کے مطابق تصادم کے وقت مظفر گھر پر موجود نہیں تھا، لیکن گھر میں عبداللہ یونی کو پناہ دی گئی تھی۔

ایس پی سوپور نے لشکر کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’مظ مولوی‘ کے گھر میں کئی گھنٹوں تک مزاحمت کرنے کے بعد عبداللہ پڑوس میں واقع سحرخان کے مکان میں چلاگیا تھا، لیکن پولیس اور فوج کے مشترکہ آپریشن میں وہ مارا گیا۔

فوج اور پولیس نے پچھلے تین سال کے دوران عبداللہ یونی کو ہلاک کرنے کئی مرتبہ دعوے کیے ہیں۔

اسی بارے میں