نکسل مسئلے کے لیے جامع پالیسی ضروری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متاثرہ علاقوں میں ترقی کے فقدان کی وجہ سے وہاں کے لوگ الگ تھلگ ہو گئے ہیں: منموہن سنگھ

بھارت کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ماؤ نوازوں کے مسئلے کے حل کے لیے متاثرہ علاقوں سے وابستہ تمام پہلوؤں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بات دِلّی میں ماؤ نواز باغیوں کی کارروائیوں سے متاثرہ ساٹھ اضلاع کے كلكٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسی بناتے ہوئے زمینی صورتِ حال اور حقائق کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال بھارتی حکومت نے متاثرہ اضلاع میں عوامی سہولیات اور روزگار کی فراہمی کے منصوبوں کی سکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ساٹھ متاثرہ اضلاع میں پندرہ سو کروڑ روپے تقسیم کیےگئے تھے۔

اس سکیم کے تحت ہر ضلع کو پچیس کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں متاثرہ علاقوں کے كلكٹرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ترقی کے فقدان کی وجہ سے وہاں کے لوگ الگ تھلگ ہو گئے ہیں اور انہیں ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ’ایسے لوگ جو انتظامیہ اور اصل دھارے سے خود کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں، ان میں اپنائیت کا جذبہ جگانے کے لیے ہماری پالیسیوں اور منصوبوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ ساتھ ہی دیکھنا ہو گا کہ معیشت میں ترقی کا فائدہ بھی ان لوگوں تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’ان علاقوں کو ترقیاتی سکیموں کے لیے کتنی ہی رقم کیوں نہ دے دی جائے، اس رقم سے لوگوں کا اعتماد نہیں جیتا جا سکتا۔ ہمیں اپنے اور ان کے درمیان کی دیوار کو گرانا ہوگا‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان اضلاع میں پالیسیاں بنانے سے پہلے متاثر ہونے والے دیہاتیوں کا حق اور ان کی ضروریات کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’ان علاقوں میں کِیا جانے والا ترقیاتی کام معنی خیز، مجموعی اور لوگوں کے لیے ہونا چاہیے۔ حفاظتی انتظامات کی کمی ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کی راہ میں حائل ہے۔ ان علاقوں میں ترقیاتی سکیموں میں کام کرنے والے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ایک چیلنج ضرور ہے لیکن ترقی اور سلامتی کے مسائل کو ہمیں ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں