وزارت عظمی کی طرف مودی کے بڑھتے قدم

Image caption کہا جارہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں مودی راہول کے مد مقابل ہونگے

گجرات فسادات کے سلسلے میں وزیراعلی نریندر مودی کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے براہ راست کوئی فیصلہ نہ دیے جانےکو مسٹر مودی نےگجرات کے عوام کی جیت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے ساتھ ’گجرات کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم‘ ختم ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مودی نےگجرات کے عوام کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد جیسے پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کھلے خط میں کہا ہے کہ ’نفرت کو کبھی نفرت سے نہیں جیتا جا سکتا‘۔

مسٹر مودی نے مزید کہا کہ ’ہمارے ملک کی اصل طاقت اس کے اتحاد اور اس کی ہم آہنگی میں پنہاں ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی سماجی زندگی میں اتحاد کو مضبوط کریں‘۔

مسٹر مودی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ’سد بھاؤنا مشن‘ یعنی ہم آہنگی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اوراس کا آغاز وہ آئندہ سنیجر سے تین دنوں کے ’ برت ‘ سے کریں گےجس کے دوران وہ کھانے پینے سےگریز کریں گے ۔

گجرات فسادات کے بعد مسٹرمودی ایک متنازعہ رہمنا رہے ہیں۔ انہیں ایک مسلم مخالف ہندو وادی رہنما کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

نریندر مودی پرگجرات کے فسادات کے لیے سخت تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کبھی کوئی بیان نہیں دیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن، سد بھاونا اور، اتحاد جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔

Image caption مودی اب وزیراعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں

مسٹر مودی نے سنیچر کے اپنے تین روزہ برت اور اپنی سدبھاؤنا تحریک کے مقام کا ابھی اعلان نہیں کیا ہے لیکن ریاست میں اس پروگرام کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

دلی میں ان کے اس اعلان کو قومی سیاست میں مسٹر مودی کی آمد کے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملک کے ٹی وی چینلوں پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا مودی ملک کے اگلے وزیراعظم ہونگے۔ ؟

بی جے پی اگرچہ مودی کو وزارت عظمی کے امیدوار کے طور پر ابھی تک پیش نہیں کر رہی ہے لیکن پارٹی کے اندر واجپئی اور اڈوانی کے بعد کوئی واضح قیادت نہ ابھرنے اور ایک بہترین اور با صلاحیت منتظم کے طور پر قومی سیاست میں مودی کا ظہور انہیں خود بخود قومی سیاست کی طرف دھکیل رہا ہے۔

لیکن دلی کی طرف دیکھنے سے قبل انہیں اگلے برس گجرات کے ریاستی انتخابات جیتنے ہونگے۔

قومی سیاست میں مودی کی آمد کے امکان کو امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ سے مزید تقویت ملی ہے جس میں مودی کی انتظامی صلاحیت کی زبردست تعریف کی گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس بات کے غالب امکان ہیں کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں وہ بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔

امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گجرات بھارت میں موثر انتظام اور متاثرکن ترقی کی سب سے بہترین مثال ہے۔ وزیراعلی مودی نے اقتصادی عمل کواس طرح آسان بنایا، معیشت کو سرکاری سست روی سے آزاد کرایا اور بدعنوانی کو اس طرح قابو میں کیا کہ گجرات ریاست قومی اقتصادی ترقی کی قیادت کرنے لگی‘۔

گجرات میں اقتصادی ترقی کی شرح حالیہ برسوں میں گیارہ فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ اور بڑی بڑی کمپنیاں گجرات میں اپنی فیکٹریاں لگانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ ملک کے متوسط طبقے میں مودی کی شبیہ ایک بہترین منتظم کے طور پر ابھری ہے اور ان کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں