تمل ناڈو: لاکھوں مفت لیپ ٹاپ کمپیوٹرز

Image caption تمل ناڈو کو اس سکیم کے تحت آئی ٹی کے جدید مراکز قائم کرنے میں مدد ملے گی

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں حکام سکول کے بچوں میں تقریباً سڑسٹھ لاکھ لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی مفت تقسیم شروع کر رہے ہیں۔

اس پانچ سالہ منصوبے کے تحت سرکاری خرچ پر چلنے والے تمام سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم بچے ایک ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے حق دار ہونگے۔

جمعرات کو شروع ہونے والا یہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔

رواں سال کے شروع میں منعقدہ انتخاب کے دوران لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا فائدہ ان والدین کو ہو گا جو اپنے بچوں کے لیے لیپ ٹاپ کمپیوٹر خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ریاست کو معاشی طور پر بھی فائدہ ہو گا کیونکہ کمپیوٹر سمجھونے والی نسل تیار ہونے سے آئی ٹی کے جدید مراکز قائم کرنے میں مدد ملے گی اور اس کی مدد سےآئی ٹی کے کاروبار میں دوسری ریاستوں کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس سے مسائل پیدا ہونگے۔ ان کا کہنا ہے صرف ایک سال میں اس منصوبے پر لاکھوں ڈالرز کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کو زیادہ بہتر تھا کہ سماجی سہولیات اور مواصلات کے نظام کی بہتری پر خرچ کیا جاتا۔

ریاست میں توانائی کا بحران بھی ہے اور اس وجہ سے طالب علموں کو اپنے ضرورت کے وقت لیپ ٹاپ کے استعمال میں مشکل بھی پیش آ سکتی ہے۔

حکومت نے انتخاب میں عوام سے کیے گئے وعدہ کے مطابق دیگر اشیا جن میں فوڈ مکسرز اور گرینڈرز شامل ہیں تقسیم کرنا شروع کیے ہیں۔

اس کے علاوہ غریب افراد کو خوراک پر سبسڈی یا رعایتی خوراک کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے جب کہ وہ لائیوسٹاک پروگرام کے تحت بکریاں اور بھیڑیں بھی حاصل کر سکیں گے۔

اسی بارے میں