ممبئی، دہشتگردی پرمبنی فلموں کا فیسٹیول

فائل فوٹو
Image caption فیسٹیول میں شامل سبھی فلمیں مسٹر پیس ہیں

اس ہفتے دس برس قبل نیو یارک میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں میں مرنے والوں کی یاد میں جہاں دنیا بھر میں سوگ منایا گیا وہیں ممبئی نے بھی انہیں فلمی انداز میں یاد کرتے ہوئے دہشتگردی پر مبنی فلم فسیٹیول کا انعقاد کیا۔

شہر میں اس پورے مہینے سینما گھروں میں دہشتگردی پر بنی عالمی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔

اس کا آغاز ہوا اسامہ نامی ایک فلم کی سکریننگ سے۔ نام پر مت جایئے کیونکہ یہ اسامہ بن لادن پر نہیں بلکی افغانستان کے طالبانی دور پر مبنی ایک فلم ہے۔ اس میں بارہ سال کی ہیروئن کا نام اسامہ ہے۔

اس فلم میں طالبان کے دور میں عورتوں پر ہونے والے تشدّد اور ان پر عائد پابندیوں کی ایک جھلک دکھائی گی ہے۔ بارہ سال کی ایک نابالغ لڑکی اپنے خاندان کے تمام مردوں کو جنگ میں کھو دیتی ہے۔

اس کی ماں مجبوراً گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اسے کام پر باہر بھیجتی ہے لیکن لڑکے کے بھیس میں کیونکہ طالبان کے دور میں خواتین کام نہیں کر سکتیں۔ اس لڑکی کا نام اسامہ رکھا جاتا ہے۔ آخر میں جب اس کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے تو اس کی شادی ایک بوڑھے شخص سے کر دی جاتی ہے جس کی پہلے سے ہی دو بیویاں ہوتی ہیں۔

آٹھ سال لڑکی پر بننے والی یہ فلم طالبان کی حکومت کے اختتام کے بعد افغانستان میں بننےوا لی پہلی فلم ہے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد بننے والی ایسی مزید نو فلمیں ممبئی کے مختلف سینما گھروں میں دکھایی جا رہی ہیں۔

ان فلموں میں دہشتگردی کے کئی روپ دکھائےگئے ہیں۔ فلم اسامہ کو دیکھنے کے لیے پچاس لوگ بھی نہیں آئے تھے لیکن جو آئے وہ اس سے کافی متاثر نظر آئے۔

کرشمہ مہتا بالی وڈ کے ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون کی اسسٹنٹ ہیں وہ بھی اس فلم سے کافی متاثر تھیں۔ ’میں نے اسامہ دیکھی بہت اچھی فلم تھی میں اور بھی ایسی فلمیں دیکھونگی۔‘

اسامہ کے علاوہ جو مقبول فلمیں دکھائی جا رہی ہیں ان میں یونائیٹڈ93 ، انشااللہ فٹبال، خدا کے لیے اور ہٹ لاکر شامل ہیں۔ انشااللہ فٹبال کشمیر کے اس لڑکے کی کہانی ہے جو فٹ بال کھیلنے برازیل جانا چاہتا ہے لیکن بھارتی حکومت اسے جانے کی اجازت نہیں دیتی۔

ممبئی کے مقبول تھیٹراین سی پی اے اور فلموں کی ایک نجی تنظیم ’تاج انلائٹن‘ سوسائٹی نے مشترکہ طور پر اس فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا ہے۔ اس ادارے کے صدر رونق دیکشت نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد عالمی فلموں کو بھارتی مداحوں تک پہنچانا ہے۔

’ممبئی میں زیادہ تر لوگ بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کے عادی ہیں۔ جبکہ عالمی سینما کا مواد کم ہے۔ ہمارا مقصد ان فلموں کو ان تک پہنچانا ہے اور ان فلموں میں دہشتگردی کے مختلف پہلوؤں سے انھیں آگاہ کرانا ہے۔‘

بعض لوگوں کا کہنا ہے کی یہ فلمیں پرانی ہیں نئی فلموں کو دکھانا چاہئے تھا لیکن کرشمہ مہتا کہتی ہیں فلمیں پرانی ضرور ہیں لیکن سبھی ماسٹر پیس ہیں۔

اسی بارے میں