’ہندو تنظیمیں دہشت گرد حملے کر سکتی ہیں‘

Image caption سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں 68 مسافر مارے گئے تھے

امریکی کانگریس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں ہندو قوم پرست گروپوں کے ذریعے دہشت گرد کارروائیوں میں اضافے کے اشارے ملے ہیں۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے بھارت میں اب اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں ’ملک میں ایسی شدت پسند ہندو تنظیمیں ہیں جو ملک کے اندر دہشت گرد حملے کر سکتی ہیں۔‘

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ اس رپورٹ میں ستمبر 2008 میں مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر میں دو بم دھماکوں کا ذکر ہے جن میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بعد میں پولیس نے ان دھماکوں کے سلسلے میں ابھینو بھارت نام کی ایک ہندو تنظیم کے نو ارکان کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں بھارتی فوج کا ایک لفٹیننٹ کرنل اور ایک سادھوی بھی شامل تھیں جن کا تعلق بی جے پی سے تھا۔

94 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2010 میں ایک ہندو شدت پسند سادھو اسیم آنند نے دہشت گردی کے کئی واقعات میں ہندو تنظیموں کے ملوث ہونے کا اقبال جرم کیا تھا۔ ان میں مالیگاؤں کے ایک مسلم قبرستان کے نزدیک 2006 کا بم دھماکہ بھی شامل ہے جس میں سینتیس افراد مارے گئے تھے۔

سوامی اسیم آنند نے بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس مسافر ٹرین پر بھی 2007 کے حملے کی ذمےداری قبول کی تھی۔ اس دھماکے میں 68 مسافر مارے گئے تھے جن میں بیشتر پاکستانی تھے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان میں بیشتر واقعات کے لیے مشتبہ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں سے متعدد اب بھی جیل میں ہیں۔

امریکی کانگریس کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ’سکیورٹی کے کئی ماہرین اور دانشور ملک میں ہندو دہشت گردوں کے ابھرنے کا خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں اور یہ وارننگ دی تھی کہ اکثریتی فرقے کی دہشت گرتنظیموں کے عروج سے ملک کا سیکولر نظام تباہ ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

متعدد واقعات میں ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ ہونے کی بات روشنی میں آنے کے بعد ’ہندو دہشت گردی‘ کا نیا اور متنازع استعارہ پہلی بار بھارت میں استعمال ہونے لگا۔ ’ملک کی تاریخ میں ہندو دہشت گردی جیسے الفاظ اور اتنے بڑے پیمانے پران کا استعمال پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس سے ملک کی قومی نفسیات پر اثر پڑ رہا ہے۔‘

کانگریشنل ریسرچ سروس امریکی کانگریس کا ایک غیرجاندارانہ تحقیقی شعبہ ہے۔ یہ امریکی کانگریس کے ارکان کے لیے امریکہ کی دلچسپی والے امور پر پر وقتاً فوقتاً تحقیقی رپورٹ تیار کرتا ہے۔

اسی رپورٹ میں بھارت کی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی ایک بہترین منتظم کے طور پر تعریف کی گئی ہے۔ اس میں یہ قیاس آرائی کی گئی ہے کہ مسٹر مودی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اس بات کا غالب امکان ہے کہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے راہول گاندھی اور نریندرمودی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہو سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ مسٹر مودی گجرات سے نکل کر قومی سیاست میں قدم رکھنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں