’مودی انصاف کی گرفت سے بچ نہیں سکتے‘

Image caption کانگریس نے نریندر مودی کے بھرت کو ’بی جے پی کے اندر قیادت کی کشمکش کا سیاسی ڈرامہ‘ قرار دیا ہے

بھارت کی ریاست گجرات میں سنیچر سے شروع ہونے والے وزیرِاعلی نریندر مودی کے تین روزہ ’برت‘ کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں چل رہی ہیں۔

تین روزہ برت کے دوران بـی جے پی کے کئی قومی رہمناؤں کی شرکت متوقع ہے۔

نریندر مودی نے اس برت کا اعلان گجرات فسادات میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ذریعے ذیلی عدالت کو منتقل کیے جانے کے بعد کیا ہے۔

انہوں نے ‏عدالتِ عظمٰی کے اس فیصلے کو گجرات کے عوام کی جیت قرار دیا ہے لیکن ریاست کے ایک اعلٰی پولیس افسر سنجیو بھٹ نے کہا ہے کہ مسٹر مودی انصاف کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

گجرات کے سینیئر پولیس افسر سنجیو بھٹ نے کہا ہے ’فسادات کے دوران گلبرگ رہائشی کمپلیکس میں سابق رکنِ پارلیمان اور 67 دیگر افراد کی ہلاکت کے کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے جس پر مسٹر مودی جشن منائیں۔‘

ایک کھلے خط میں سنجیو بھٹ نے ’گجرات میں امن و اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے‘ مودی کے تین روزہ برت کو ’مکمل طور پر گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔

دو صفحات پر مشتمل اس خط میں مسٹر بھٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس سے ’سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے مرتکبین اور معاونین انصاف کی گرفت میں آنے کے اور قریب پہنچ گئے ہیں۔ سنجیو بھٹ نے لکھا ’آپ یقین کیجیے جب انصاف کا عمل شروع ہوگا تب ایک مختلف تصویر سامنے آئے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنجیو بھٹ نے نریندر مودی کے تین روزہ برت کو ’مکمل طور پر گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔

سنجیو بھٹ ایک اعلیٰ پولیس افسر ہیں اور وہ 2002 کے فسادات کے دوران احمد آباد میں انٹیلیجنس کے انچارج تھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ فسادات کے دوران اعلٰیٰ افسروں کی ایک میٹنگ میں وزیرِاعلٰی نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’گودھرا میں ٹرین کے واقعے میں ہندؤں کو ہلاک کرنے کا غصہ ہندؤن کو نکالنے دیا جائے اور یہ کہ ’مسلمانوں کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔‘

نریندر مودی نے ان الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر بھٹ اس میٹنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔ بیان حلفی داخل کیے جانے کے بعد گجرات کی حکومت نے مسٹر بھٹ کو دفتر سے چھٹی لینے کے ایک معاملے میں ’بے ضابطگی‘ کی بنیاد پر معطل کر دیا ہے۔

سنجیو بھٹ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ گجرات میں نفرت اور پھوٹ ڈالنے والی سیاست کا عمل بہت کامیاب رہا ہے اور ’آپ اور آپ کے ہمنوا سیاستدانوں نے چھ کروڑ گجراتیوں کے ذہن میں پھوٹ کے بیج بونے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ تقسیم اس حد تک مکمل ہو چکی ہے کہ اب مزید کسی مذہبی تشدد کی ضرورت نہیں رہی ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’گجرات میں انصاف کی آس میں تشدد کے شکار بے بس لوگوں کا جذبہ بھلے ہی کبھی کبھی کمزور پڑنے لگے لیکن اسے جھوٹے پراپگنڈوں سے کچلا نہیں جا سکتا۔ دنیا میں آج انصاف حاصل کرنا کہیں بھی آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے دائمی صبر اور ناقابلِ تسخیر جذبوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کے لیے ان کی جدو جہدآخری سانس تک جاری رہے گی۔‘

اس دوران آحمد آباد میں نریندر مودی کے تین روزہ برت کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں چل رہی ہیں۔ کانگریس نے اسے ’بی جے پی کے اندر قیادت کی کشمکش کا سیاسی ڈرامہ‘ قرار دیا ہے۔ مودی کے برت کے جواب میں پارٹی کے ریاستی رہنماء بھی تین روز کا برت رکھیں گے اور مودی سے فسادات کے لیے معافی مانگنے کا مطالبہ کریں گے۔

اسی بارے میں