’سرحد پار شدت پسند کیمپ دوبارہ فعال‘

منموہن سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ پولیس فورس الرٹ رہے

ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں سرحد پار شدت پسندوں کے کیمپ دوبارہ فعال ہو رہے ہیں اور انہیں ناکام کرنے کے لیے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں کہا ہے کہ سرحد کے پار سرگرم شدت پسندوں کے کیمپ تشویش کا باعث ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ شدت پسند بھارت میں دارندازی کر رہے ہیں۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ ’ایسی اطلاعات ہیں کہ سرحد پار کیمپوں میں موجود بڑی تعداد میں شدت پسند جموں و کشمیر میں دراندازی کی کوشش میں ہیں اور ہمیں ان کوششوں کو ناکام کرنے کے لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں سکیورٹی کا نظام ابھی بھی پوری طرح پختہ نہیں ہے۔

نئی دلی میں سینیئر ریاستی پولیس اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ پولیس کے لیے جموں و کشمیر میں اصل امتحان وہاں کے عوام کی امیدوں پر پورا اترنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں باغی تنظیمیں بھی اب تسلیم کرنے لگی ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا حل تشدد کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں دلی اور ممبئی میں ہوئے دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ صورتحال باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’حال ہی میں ہوئے حملے اس بات کی طرف اشارے کرتے ہیں کہ قومی کے سلامتی کے لحاظ ہمارے پاس کتنا بڑا چیلنج ہے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دلی کے ہائی کورٹ میں ہوئے بم دھماکے کے بعد ہندوستان کی حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت میں ہی سرگرم شدت پسند ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ہائی کورٹ میں ہوئے دھماکوں کی تفتیش جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے بعض افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں