بھارت نواز کشمکش کا شکار

Image caption افضل گرو کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی ستاسی رکنی اسمبلی نے سنیچر کے روز اُس قرارداد پر بحث کو منظوری دے دی جو بھارتی پارلیمان پر حملہ کے ملزم افضل گورو کی پھانسی کےخلاف ایک رکن اسمبلی نے داخل کی تھی۔

اس حوالے سے یہاں کے اکثر مبصرین دو سوالوں پر غور کررہے ہیں۔

اول یہ کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ پینتیس میں سے صرف سات قراردادوں کو ایوان میں بحث کے لئے منظور کیا جانا تھا۔ صندوق سے جب سات پرچیاں نکالی گئیں تو ان میں افضل کی معافی کی قرارداد بھی تھی ! یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ قرارداد منظور یا نامنظور ہوئی تو کیا ہوگا؟

اس قرار داد کو پاس کروانے کے لئے ایوان میں موجود ممبران کی سادہ اکثریت کی ضرورت ہے۔ اور کشمیری جماعتوں کے ممبران قرار داد پر بحث کے روز غیرحاضر رہنے کا جوکھم نہیں اُٹھا سکتے۔ افضل گورو کے حق میں ہمدردی کی جو لہر ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ قرارداد ایک حساس سیاسی معاملے کا رُخ اختیار کررہی ہے۔ لہٰذا غیرحاضر رہ کر دامن بچانے کا آپشن موجود نہیں۔

کشمیر کی ستاسی رکنی اسمبلی میں اٹھارہ ممبران والی کانگریس کے ریاستی سربراہ پروفیسر سیف الدین سوز نے اس قرار داد سے متعلق محتاط ردعمل ظاہر کیا۔ 'ہم اس قرارداد کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے ممبران ایوان میں موجود رہیں گے۔'

کانگریس کے علاوہ اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے اٹھائیس ، پی ڈی پی کے اکیس اور بی جے پی کے گیارہ ممبران ہیں۔ نیشنل کانفرنس رہنما عمرعبداللہ فی الوقت کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی مخلوط حکومت کے سربراہ ہیں۔

نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی سیاست نیم علیٰحدگی پسندانہ لہجوں پر مشتمل ہے۔ کانگریس صرف تعمیرو ترقی کی بات کرکے سونیا گاندھی کی سربراہی والی 'ہائی کمان' کے تابع ہے اور بی جے پی کشمیریوں کیخلاف سخت گیرمؤقف اختیار کرنے میں عافیت سمجھتی ہے۔ اس غیرمتوازن سیاسی صف بندی کے بیچ افضل گورو کی معافی کے حق میں قرارداد ہندنواز حلقوں میں تذبذب کا باعث بن رہی ہے۔

قابل ذکر ہے یہ قرار داد داخل کرنے والے ممبراسمبلی انجنیئر عبدالرشید نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سے اپیل کی ہے کہ ’وہ کشمیریوں کی قومی خواہش کے مطابق اس قرار داد کی حمایت کریں۔‘

نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو تو واضح چیلنج درپیش ہے کیونکہ اگر وہ مخالفت کرتے ہیں ان کی عوامی حمایت کم ہوجائے گی۔ بی جے پی کا مؤقف تو عیاں ہے، وہ اس پر ہنگامہ بھی کرے گی۔

لیکن کانگریس سب سے زیادہ مخمصہ میں ہے۔ یہ جماعت قرارداد کی کھل کر حمایت کرے گی، تو بی جے پی اس کو ملک گیر مسئلہ بنا کر منموہن سنگھ حکومت کا قافیہ تنگ کرے گی۔ اور اگر اس نے معاملہ اپنے شریک اقتدار پر چھوڑ کر درمیان کا راستہ اختیار کرلیا، تو بی جے پی اسے بالواسطہ حمایت سے تعبیر کرکے کانگریس پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرکے ’دہشت گردوں کا ہمدرد‘ قرار دے گی۔ آخری راستہ ہے مخالفت کا، لیکن یہ سیاسی نقصانات کا پیش خیمہ ہوگا۔ کیونکہ افضل گورو ایک کشمیری مسلم ہیں، اور پھانسی کی سزا پانے کے بعد وہ مسلم اکثریت کی ہمدردی حاصل کرچکے ہیں۔ کانگریس کی زیادہ سیٹیں جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہیں، اور وہ ان میں اضافہ کی خواہش رکھتی ہے۔

افضل گورو کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کے خلاف اسمبلی میں قرارداد کا نظریہ سب سے پہلے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پیش کیا۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو کی اسمبلی میں جب راجیو گاندھی کے قاتلوں کو دی گئی پھانسی کی سزا کے خلاف قرارداد منظور ہوئی ، تو عمر نے ٹوِٹر پر لکھا کہ اگر کشمیر کی اسمبلی بھی افضل گورو کے معاملے میں قرارداد منظور کرے تو کیا بھارت کا ردعمل اتنا ہی محتاط اور خاموش ہوگا؟

مبصرین کا خیال ہے کہ تامل ناڈو اور کشمیر میں ایک مماثلت ضرور ہے کہ دونوں ریاستوں میں علیٰحدگی پسند تحریکیں چلی ہیں، اور دونوں کے یہاں ہندنواز قیادت اب نیم علیٰحدگی پسندانہ نظریات پر سیاست کررہی ہے۔ راجیوگاندھی کے قاتلوں کی پھانسی تو چنئی کی قرارداد سے ٹل گئی، کیا سرینگر میں ایسا ہی ہوگا؟ جواب کا سب کو انتظار ہے۔

اسی بارے میں