’میرا برت کسی کے خلاف نہیں‘

نریندر مودی
Image caption نریندر مودی کی شہرت ایک مسلم مخالف لیڈر کی ہے

ہندوستان کی ریاست گجرات کے وزیرِاعلی نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کا تین روزہ برت کسی کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد سبھی طبقے کے لوگوں کو ایک ساتھ جوڑنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے برت کا مقصد پیار اور محبت کے ماحول کو فروغ دینا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ گجرات کے شہریوں کا ’سکھ دکھ‘ ان کا بھی سکھ دکھ ہے۔

نریندر مودی نے کانگریس پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ ملک میں گزشتہ ساٹھ برس سے ووٹ بینک کی جو سیاست چل رہی ہے وہ اس کے خلاف ہیں۔

قومی سیاست میں آگے آنے کی خواہش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہمیں آگے بڑھنا ہے، ہم ملک کو کچھ دینا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی پسماندہ ریاستیں گجرات سے مدد مانگیں۔ ہم ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

اپنے 62 ویں جنم دن کے موقع پر امن، یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے تین دن کے برت کا آغاز کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا ’ کسی کا سکھ میرا سکھ ہے۔ کسی کا دکھ میرا دکھ ہے۔‘

اس موقع پر نریندر مودی کی حمایت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی لیڈر گجرات پہنچے ہیں۔ اُن میں لال کرشن ایڈوانی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ پرکاش سنگھ بادل اور اے آئی ڈی ایم کے کے دو ارکانِ پارلیمان بھی مودی کی حمایت میں گجرات پہنچے ہیں۔

گجرات میں مقامی صحافی اجے امٹھ کا کہنا ہے کہ مودی کے اس برت کا ایجنڈا بالکل صاف ہے۔ ایک طرف ان کی نظر وزیرِاعظم کے عہدے پر ہے اور انھوں نے’اپنے خط میں جس طرح سے گجرات کے فسادات پر افسوس ظاہر کیا ہے اس سے واضح ہے کہ وہ اپنی پوزیشن بہتر کرنا چاہتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ نریندر مودی کے برت کے خلاف کانگریس کے لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا گجرات میں سابرمتی آشرم کے باہر برت پر بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی پہلے گجرات فسادات اور فرضی تصادم سے منسلک سوالات کا جواب دیں۔

گزشتہ دنوں گجرات فسادات کے سلسلے میں وزیرِاعلیٰ نریندر مودی کے خلاف سپریم کورٹ کی طرف سے براہ راست کوئی فیصلہ نہ دیے جانےکو مسٹر مودی نےگجرات کے عوام کی جیت قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ ’گجرات کے خلاف نفرت انگیزی کی مہم‘ ختم ہوگئی ہے۔

‎ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مودی نے گجرات کے عوام کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد جیسے پہلوؤں کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کھلے خط میں کہا تھا کہ نفرت کو نفرت سے کبھی نہیں جیتا جا سکتا۔

مسٹر مودی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سد بھاؤنا مشن یعنی ہم آہنگی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گجرات فسادات کے بعد مسٹرمودی ایک متنازع رہمناء رہے ہیں انہیں ایک مسلم مخالف ہندو رہنماء کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

نریندر مودی پر گجرات کے فسادات کےلیے سخت تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کبھی کوئی بیان نہیں دیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نےفرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن اور اتحاد جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔

بی جے پی اگرچہ مودی کو وزارتِ عظمی کے امیدوار کے طور پر ابھی تک پیش نہیں کر رہی ہے لیکن پارٹی کے اندر واجپائی اور ایڈوانی کے بعد کوئی واضح قیادت نہ ابھرنے اور ایک بہترین اور باصلاحیت منتظم کے طور پر قومی سیاست میں مودی کا ظہور انہیں خود بخود قومی سیاست کی طرف دھکیل رہا ہے۔

لیکن دلی کی طرف دیکھنے سے قبل انہیں اگلے برس گجرات کے ریاستی انتخابات جیتنے ہوں گے۔

قومی سیاست میں مودی کی آمد کے امکان کو امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ سے مزید تقویت ملی ہے جس میں مودی کی انتظامی صلاحیت کی زبردست تعریف کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں وہ بی جے پی کے وزارتِ عظمی کے امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں