بھارت، نیپال میں زلزلہ، سولہ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زلزلے کا مرکز بھارت کی شمالی ریاست سکم سے چونسٹھ کلومیٹر دور بتایا جارہا ہے۔

بھارت کے شمالی اور مشرقی علاقوں اور نیپال میں طاقتور زلزلے سے کم سے کم سولہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت چھ اعشاریہ آٹھ بتائی گئی ہے۔

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً چھ بجے محسوس کیا گیا۔ زلزلے کے مرکز شمال مشرقی کوہستانی ریاست سکم کے دارالحکومت گینگ ٹاک سے تقریباً چونسٹھ کلومیٹر دور بتایا گیا ہے۔

سکم میں کم سے کم پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن جانی اور مالی نقصان کا صحیح اندازہ لگانے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں سے ابھی تفصیلی معلومات اکھٹا کی جارہی ہے۔

ایک شخص بہار میں ہلاک ہوا ہے۔ آئی بی این کا کہنا ہے کہ سات لوگ صرف سکم میں ہی ہلاک ہوئے ہیں اور وہاں عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

دلی سے بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم نے بتایا کہ زلزلہ کے جھٹکے ملک کے کئی حصوں میں محسوس کیے گئے اور بہت سے علاقوں میں لوگ گھبرا کر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ سکم میں کئی عمارتوں کے منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن ابھی تصویر پوری طرح واضح نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکم میں یہ گزشتہ دو دہائیوں کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

امدادی کام شروع کردیا گیا ہے اور دلی سے ماہرین کی ٹیمیوں کو لے کر دو خصوصی طیارے باگ ڈوگرا کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں سے آگے کا راستہ وہ سڑک کے ذریعے طے کریں گے۔ ٹی وی چینلوں کے مطابق سکم اور نیپال کی سرحد پر واقع علاقوں میں کافی تباہی ہوئی ہے لیکن اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

زلزلے کے ہلکے جھٹکےدلی اور گرد و نواح میں بھی محسوس کیے گئے۔ چند روز قبل بھی دلی میں زلزلہ کے جھٹکےمحسوس کیے گئے تھے جس کی وجہ سے لوگ فکر مند ہیں کہ کہیں یہ کسی بڑے زلزلے کا پیش خیمہ تو نہیں ہیں۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سکم کے وزیر اعلٰی سے ٹیلی فون پر بات کرکے انہیں تمام ضروری امداد فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق زلزلہ کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا۔

اطلاعات ہیں کہ نیپال تین افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب دارالحکومت کھٹمنڈو واقع برطانوی سفارتخانے کی دیوار زلزلے کے جھٹکوں سے ان پر گر گئی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق سکم میں چھ بج کر دس منٹ پر آیا جس کے بعد دو آفٹر شاکس بھی آئے۔

زلزلے سے ریاست سکم میں ٹیلیفون لائینیں کٹ گئی جبکہ ریاستی دارالحکومت میں بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہوگئی۔

سکم کے پولیس سربراہ جسبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ شہر میں عمارتوں منہدم ہوگئی ہیں اور ان کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ’ہم نے ہائی الرٹ کا اعلان کردیا ہے۔ پولیس دارالحکومت گینگ ٹاک کی سڑکوں پر ہے جبکہ دیگر شہروں میں بھی پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔‘

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق، زلزلے کے جھٹکے بنگہ دیش اور بھوٹان میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے سبب ڈھاکہ میں ہزاروں افراد اونچی عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

اسی بارے میں