پاکستانی کشمیری رہنماء کا سری نگر میں خطاب

Image caption بیرسٹر سلطان محمود نے بھارتی کشمیر کے لال چوک پر عوام سے خطاب کیا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بائیس سال کی علٰیحدگی پسند تحریک کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے کسی سیاستدان نے وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں لوگوں سے خطاب کیا۔

وادی کے تین روزہ دورہ پر آئے پاکستانی کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ، سید علی گیلانی اور دوسرے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

سری نگر سے بی بی سی کے ریاض مسرور نے بتایا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماء محمد یٰسین ملک نے بیرسٹر سلطان محمود چودھری کے اعزاز میں وادی کے حساس ترین علاقہ مائیسمہ میں ایک استقالیہ کا اہتمام کیا تھا۔

ایک بااثر کشمیری تاجر کی دعوت پر وادی کے تین روزہ دورے پر آئے بیرسٹر چودھری نے لوگوں سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان منقسم کشمیری خطوں کے اتحاد کی کوششوں کی حمایت کرینگے۔

انہوں نے کہا ’آزادی بہت قریب ہے۔ یورپی ایوانوں سے بھی اب آزادی کی آواز آرہی ہے۔ یہ کشمیریوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ میں واپس جاکر اپنے لوگوں کو یہی پیغام دوں گا کہ دونوں طرف کے لوگ مل جل کر اس تحریک کو آگے بڑھائیں۔‘

اس موقع پر لبریشن فرنٹ کے رہنماء محمد یٰسین ملک کے جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول کو دیوارِ برلن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کشمیریوں کو آپس میں دوبارہ متحد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا ’جرمنی کی تقسیم فطرت کے خلاف تھی۔ ساری دنیا کو پھر دیوارِ برلن کو توڑنا پڑا۔ اسی طرح وقت قریب ہے کہ دنیا خود اس دیوار (کنٹرول لائن) کو بھی گرائے گی۔‘

پاکستانی کشمیر کے وزیراعظم کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے دورے کے دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور معروف علیٰحدگی پسند رہنماء سید علی گیلانی کے ساتھ ملاقات کی۔

منگل کے روز انہوں نے علی گیلانی کے گھر میں ان کے ساتھ ایک گھنٹہ تک گفتگو کی جس کے دوران علیٰحدگی پسند رہنماء نے بیرسٹر چودھری سے کہا کہ انہوں نے عمرعبداللہ کے ساتھ ملاقات کر کے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔

علی گیلانی کا کہنا تھا کہ دورے پر آئے بیرسٹر چودھری نے اُسی شخص سے ملاقات کی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی فورسز کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ تاہم پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم نے اس کے جواب میں کہا کہ عمرعبداللہ کے ساتھ ان کی ملاقات محض ایک اتفاق تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ایک نامور کشمیر تاجر ظہور احمد وٹالی نے اپنے فرزند کی شادی کی تقریب پر پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے سیاستدانوں کو مدعو کیا تھا جن میں سردار عتیق احمد اور بیرسٹر سلطان محمود تھے۔ سردار عتیق کا اصرار تھا کہ وہ کنٹرول لائن کے راستے اپنی گاڑی میں کشمیر آنا چاہتے ہیں، تاہم حکام کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر انہوں نے دورہ منسوخ کیا۔

بیسرسٹر چودھری نے دورے کے دوران بتایا کہ بھارت نے انہیں ویزا فراہم کر کے امن کے عمل کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں