’مسئلہ کشمیر کا تصفیہ بھارتی آئین میں‘

پڈگاؤنکر
Image caption پڈگاؤنکر کی ٹیم کا کشمیر کا یہ آحری دورہ ہے

بھارت کی حکومت کی طرف سے متعین کردہ مذاکرات کاروں نے گیارہ ماہ بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل بھارتی آئین کی حدود میں ہی ڈھونڈنا ہو گا۔

حکومتی مذاکرات کاروں نےگیارہ ماہ سے بھارتی زیرِانتظام کشمیر کے تینوں خطوں میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے عوامی حلقوں کے ساتھ سینکڑوں ملاقاتوں کئیں لیکن علیحدگی پسند تنظیموں نے ان مذاکرات کاروں کو حکومت کا ’یس مین‘ کہہ کر ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ پچھلے برس پولیس اور فورسز نے احتجاجی تحریک کو طاقت کے ذریعہ دبایا تو حکومت ہند نے صحافی دلیپ پڈگاؤنکر کی سربراہی میں تین رکنی ثالثی گروپ کو کشمیریوں سے مذاکرات کرنے کے لیے تعینات کیا تھا۔

وادی کے آخری دورے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران دلیپ پڈگاؤنکر نے واضح کیا تھا کہ بارہ اکتوبر کو جو رپورٹ حکومت کو پیش کی جائےگی، اس میں محض سفارشات ہیں جنہیں بھارتی آئین کی حدود میں ترتیب دیا گیا ہے۔

مسٹر پڈگاؤنکر نے کہا کہ ان کے گروپ نے پچھلے سال سے اب تک جموں کشمیر کے بائیس اضلاع میں پانچ ہزار لوگوں کے ساتھ ملاقات کی جبکہ دانشوروں، تاجروں، وکلاء، صحافیوں، طلباء اور دوسرے حلقوں کے نمائندوں پر مشتمل تین گول میز کانفرنسیں بھی منعقد کی گئیں۔

انہوں نے کہا: ’اس وسیع تجربہ کی بنیاد پر میں کہوں گا کہ جموں، کشمیر اور لداخ میں سبھی لوگ اس احساس میں جی رہے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ لیکن تینوں خطوں میں سیاسی، معاشی یا تمدنی خواہشات الگ الگ ہیں۔‘

مسٹر پڈگاؤنکر نے اشارہ کیا کہ ان کی رپورٹ میں کنٹرول لائن پر آمدورفت کو مزید فعال بنانے، لوگوں کو سیاسی طور با اختیار بنانے اور لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم سفارشات شامل ہوں گی۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ اعتماد سازی کے اقدامات، نوکریاں یا صحیح انتظامیہ فراہم کرنا مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کا متبادل نہیں ہوسکتے۔

Image caption پروفیسر رادھا کمار بھی رابطہ کار ٹیم کی حصہ ہیں

انتہائی محتاط الفاظ استعمال کرتے ہوئے مسٹر پڈگاؤنکر نے کہا: ’ہم ماضی کو نکتہ حوالہ نہیں بنائیں گے۔ ماضی تو متازعہ ہے۔ کچھ لوگ تو اُنیس سو سینتالیس کا الحاق کا معاہدہ تسلیم نہیں کرتے، کچھ لوگ اُنیس سو تریپن کا دہلی معاہدہ مسترد کرتے ہیں اور بعض حلقے تو اُنیس سو پچھہتر کا اندرا۔عبداللہ ایکارڈ بھی نہیں مانتے۔ ہم ایسے مستقبل کی بات کریں گے، جس میں ماضی کی متنازعہ باتیں نہ ہوں، لیکن یہ طے ہے کہ سب کچھ بھارتی آئین کی حدود میں ہوگا۔‘

قابل ذکر ہے کہ سرکاری مذاکرات کاروں نے پچھلے گیارہ ماہ کے دوران علیٰحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی لیکن میرواعظ عمر فاروق ، سید علی گیلانی، شبیر شاہ اور یٰسین ملک سمیت سبھی علیٰحدگی پسند رہنماؤں نے ثالثی گروپ کو سرکار کے ’یس مین‘ قرار دیا اور ان سے ملاقات نہیں کی۔

گزشتہ ماہ مولانا عباس انصاری کےگھر پر ان سے ملاقات ہوئی لیکن بعد میں مولانا انصاری نے کہا کہ مذاکرات کار ’بن بلائے مہمان تھے۔‘

مسٹر پڈگاؤنکر نے کہا : ’ہم نے کئی بار ہاتھ بڑھایا، لیکن علیٰحدگی پسندوں نے انکار کیا۔ پھر بھی ہم ان کے بیانات اور ان کے لٹریچر سے ان کا مؤقف جان گئے ہیں اور اسے ہم اپنی سفارشات میں شامل کررہے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ جموں کشمیر میں سیاسی خواہشات کو اکثریت یا اقلیت کے تناظر میں نہیں بلکہ علاقائی پس منظرمیں دیکھتے ہیں۔ ’ہم مانتے ہیں کہ بہت سارے لوگ آزادی چاہتے ہیں۔ لیکن یہ اکیلی آواز نہیں ہے، بہت سی مختلف آوازیں بھی ہیں، جنہیں ہم نے خود سنا اور محسوس کیا۔‘

اسی بارے میں