ٹو جی سپیکٹرم، پرنب کا تبصرے سے انکار

پرنب مکھرجی تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مکھرجی کے خط سے حکومت پر نکتہ چینی ہورہی ہے

بھارتی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی سے متعلق وزارت خزانہ کی طرف سے وزیراعظم کو لکھےگئے ایک خط کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے منع کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کے اس مذکورہ خط میں کہا گيا تھا کہ اگر اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدامبرم چاہتے تو ٹو جی سپیکٹرم کی نیلامی ہو سکتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔

نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت میں مسٹر مکھرجی نے کہا ’یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ میں اس پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ یہ پورا معاملہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہے اور جو مسئلے عدالت کے سامنے زیر غور ہوں ان پر تبصرہ نہیں کر سکتے‘۔

پرنب مکھرجی نے امریکی اور بھارتی صنعت کاروں اور تاجروں سے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ان کے دفتر سے وزیراعظم کے دفتر کو لگھےگئے خط کو رائٹ ٹو انفارمیشن یعنی جاننے کے حق کے قانون کے تحت حاصل کیا گیا ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی امریکہ میں’انڈو یو ایس انویسٹرز فورم‘ کے ایک اجلاس میں شریک ہونے کے لیے نیویارک میں ہیں۔

صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں مسٹر مکھرجی نے کہا کہ یہ ایک الگ سوال ہے کہ کہ رائٹ ٹو انفارمیشن کے قانون کے تحت حاصل کیے گئے خط کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ وزارت خزانہ نے وزیراعظم کے دفتر کو لکھےگئے اپنے خط میں کہا ہے کہ اگر اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدامبرم چاہتے تو ٹو جی سپیکٹرم سے متعلق جو پہلے آئے پہلے پائے کی پالیسی کے تحت فروخت نہیں کیا جا تا اور اس کی نیلامی کرائی جاسکتی تھی۔

وزیراعظم کو لکھے گئے اس خط کو وزیر خزانہ نے منظوری دی تھی۔ یہ خط اس برس مارچ میں لکھا گيا تھا۔

جنتا پارٹی کے ایک رہنما سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے اور عدالت سے کہا ہے کہ ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی معاملے میں پی چدامبرم سے بھی تفتیش ہونی چاہیے کیونکہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔

دو ہزار آٹھ میں جب ٹو جی سپیکٹرم کے لائسنز الاٹ کیے گیے تھے اس وقت پی چدامبرم وزیر خزانہ تھے اور اب وہ بھارت کے وزیرداخلہ ہیں۔ پی چدامبرم کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گيا ہے اگر پی چدامبرم چاہتے تو اس وقت کے مواصلات کے وزیر اے راجہ کو درکنار کرتے ہوئے پور عمل میں شفافیت لا سکتے تھے۔

اس خط کے منظر عام پر آنےکے بعد اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے چدامبرم سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کانگریس پارٹی اسے سیاسی شعبدہ بازی قرار دے رہی ہے۔

اسی بارے میں