منصور پٹودی انتقال کر گئے

منصور علی خان پٹودی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پٹودی سب سے کم عمر کے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مانے جاتے ہیں

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان منصور علی خان پٹودی شدید علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں ۔

پٹودی کی عمر ستر سال تھی اور وہ دلی کےایک ہستپال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج تھے۔

دلی کے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پٹودی کے پھیپڑوں میں شدید انفکشن تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم کو وافر مقدار میں آکسیجن نہیں مل پا رہی تھی۔

پٹودی، جو صرف ایک آنکھ میں بینائی ہونے کے باوجود اکیس سال کی عمر میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے تھے، حال ہی میں لندن سے لوٹے تھے جہاں انہوں نے بھارت اور انگلینڈ کےدرمیان ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر اپنے والد افتخار علی خان کے نام سے منصوب ٹرافی فاتح ٹیم کے کپتان کو پیش کی تھی۔ پٹودی کے والد بھی بھارتی ٹیم کے کپتان تھے اور انہوں نے انگلینڈ کے لیے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی تھی۔

پٹودی کی اہلیہ شرمیلا ٹیگور ستر اور اسی کی دہائی میں بالی وڈ کے مشہور ترین اداکاروں میں شمار کی جاتی تھیں۔ ان کے بیٹے سیف علی خان بھی بالی وڈ کے بڑے سٹارز میں شمار کیے جاتے ہیں۔

اپنے زمانے میں پٹودی ایک جارحانہ بلے باز اور شاطر کپتان کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی برق رفتار فیلڈنگ کے لیے انہیں ’ٹائگر‘ کا لقب دیا گیا تھا۔ انگلینڈ میں زمانہ طالب علمی میں ہی کار کے ایک حادثے میں ان کی ایک آنکھ خراب ہوگئی تھی۔

نواب منصور علی خان دلی کے قریب واقع سابق ریاست پٹودی کے آخری نواب تھے۔ انیس سو اکہتر میں ہندوستان میں شاہی خطاب ختم کر دئے گئے تھے۔ ان کی والدہ بیگم ساجدہ سلطان بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کی بیٹی تھیں۔

ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں جمعرات کو ایک بلیٹن جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’منصور علی خان کی حالت بہت نازک ہے اور وہ آئی سی یو میں ہیں۔ انہیں بھاری مقدار میں آکسیجن فراہم کی جارہی ہے اور سانس لینے کے لیے مشینوں کی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ وہ ہوش میں ہیں اور ان کا دل ٹھیک طرح سے کام کررہا ہے۔ ان کی صحت پر بہت قریبی نگاہ رکھی جارہی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا تھا کہ پٹودی کو جو بیماری ہے اس کا کوئی پکا اور مستقل علاج نہیں۔

پٹودی نے بھارت کے لیے چھالیس ٹیسٹ کھیلے جن میں سے چالیس میں وہ کپتان رہے۔ آج تک انہیں بھارتی کرکٹ ٹیم کا سب سے کم عمر کا کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تقریباً پینتیس کی اوسط سے انہوں نے دو ہزار سات سو ترانوے رن بنائے جس میں چھ سینچریاں اور سولہ نصف سینچریاں شامل تھیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ انفرادی سکور دو سو تین رن تھا۔