بھارتی یہودیی، اسرائیل میں بسنے کی منظوری جلد

اسرائیل پہچنے والی کچھ بھارتی یہودی تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption بھارت کے شمال مشرق کے یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کو کچھ برس پہلے اسرائیلی حکام نے روک دیا تھا

اسرائیل کی حکومت آئندہ چند ہفتوں میں سات ہزار سے زیادہ بھارتی یہودیوں کو اسرائیل میں بسنے کی منظوری دینے والی ہے۔ یہ بھارتی یہودی خود کو اسرائیل کے کھوئے ہوئے قبیلے کی نسل کا بتاتے ہیں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ناگا لینڈ اور منی پور میں ہزاروں یہودی آباد ہیں اور انہیں بنی مناشہ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کے ربائیوں کے ادارے نے انہیں اسرائیلی نسل کا تسلیم کر لیا تھا اور گزشتہ سالوں میں تقریباً دو ہزار بنی مناشہ اسرائیل منتقل ہوئے۔ لیکن سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کی حکومت نے سنہ دو ہزار سات میں ان کے امیگریشن پر روک لگا دی تھی۔

اسرائیل کے اخبار ’ا جیروسلم پوسٹ‘ نے خبر شائع کی ہے کہ امیگریشن اور اسرائیل میں بسانے سے متعلق وزارتی کمیٹی نے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے باقی بچے ہوئے 7232 یہودیوں کو اسرائیل لانے کی اصولی طورپر اجازت دے دی ہے۔ انہیں اسرائیل لانے کی حتمی منظوری آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔

بنی مناشہ کا تعلق اسرائیل کے دس کھوئے ہوئے قبیلوں سے ہے جن کے بارے میں روایت ہے کہ انہیں دو ہزار سات سو برس قبل ان کے خطے سے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔

بھارتی یہودیوں کے بارے میں خیال ہے کہ جلا وطنی کے بعد وہ صدیوں تک وسطی ایشیا اور مشرق بعید کے ملکوں میں بھٹکتے رہے اور بالآخر بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کی۔

بنی مناشہ کے باقی بچے ہوئے ارکان کو بھارت سے اسرائیل آنے کی اجازت دیے جانے پر اسرائیل کے ایوینجیلیکل عیسائیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کی واپسی کو وہ اپے عقیدے کا حصہ مانتے ہیں اور ان عیسائی گروپوں نے کہا ہے کہ وہ بنی مناشہ کو بھارت سے اسرائیل لانے میں مالی مدد کریں گے۔

ان کا عقیدہ ہے کہ یہودیوں کی واپسی کا ذکر ان کی مذہبی کتاب انجیل میں کیا گیا ہے اور ان کی واپسی مکمل ہونے پر ہی حضرت عیسی مسیح کا ایک بار پھرظہور ہوگا۔

دنیا بھر میں کھوئے ہوئے یہودیوں کی تلاش اور ان کی شناخت کا کام کرنےوالی تنطیم ’شیوی اسرائیل‘ کے بانی مائکل فرائنڈ نے کہا ہے کہ ’مجھے پوری امید ہے کہ آئندہ ہفتوں میں ہمیں تاریخی کامیابی ملنے والی ہے جس کے تحت بنی مناشہ کے کھوئے ہوئے لوگ وابس اسرائیل آ جا ئیں گے‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی یہودیوں کو تین سے پانچ برس کے درمیان مرحلےوار طریقے سے لایاجائے گا۔

اسرائیل کے ’واپسی کے حق کے قانون‘ کے تحت ہر یہودی یا یہودیوں کی نسل کے لوگوں کو خود بخود اسرائیل کی شہریت مالی مدد دی جاتی ہے۔

بھارتی یہودیوں کو اسرائیل لانے پر تقریباً دو کروڑ ڈالر خرچ ہونے کاتخمینہ ہے۔ انہیں بسانے اور مالی امداد کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔