’کشمیر میں گمنام قبروں کی تحقیق ہونی چاہیے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں بہت سی گمنام اجتماعی قبریں دریافت ہوئي ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں منگل کو گمنام اجتماعی قبروں کے معاملہ پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے دوران اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سبھی گیارہ ممبران نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیم کے کارکن خرم پرویز اور سری نگر کے سینئر صحافی کے ساتھ گمنام قبروں کے معاملے پر تفصیلی بات چیت سننے کے لیے کلک کریں

ادھر کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ نامعلوم لاشوں کی شناخت کا انتظام کیا جائے گا۔

بھارت سے گزشتہ ہفتے ملک بدر کیے جانے والے امریکی صحافی ڈویڈ برسینین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کشمیر کی صورت حال کو انتہائی سنگیں قراد دیا اور کہا ہے کہ گمنام قبروں کے معاملے کی پوری تحقیق ہونی چاہیے اور حقائق کو دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

ڈیویڈ برسینین نے جب یہ پوچھا گیا کہ لیبیا میں اجتماعی قبر ملے تو اس پر پوری دنیا میں ہنگامہ ہو جاتا ہے لیکن کشمیر میں اجتماعی قبروں کی کوئی بات نہیں کرتا تو انہوں نے کہا کہ یہ دوہرے معیار کی ایک مثال ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس بارے میں خاموشی پر انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے بڑی ’چالاکی‘ سے کشمیر سے آنے والی خبروں کو دبایا ہے یا معلومات کو نکلنے نہیں دیا۔

ڈیویڈ برسینین نے جن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ بھارت میں گزرا ہے کہا کہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس اتنی بڑی تعداد موجود ہے کہ وہاں قدم رکھنا بھی مشکل ہے۔

کشمیر کی اسمبلی میں منگل کو وقفہ سوالات کے دوران حزب اختلاف کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے قبروں کے معاملہ پر بحث کے لیے تحریک التوا پیش کی جسے سپیکر نے مسترد کر دیا۔ سپیکر کا استدلال تھا کہ اجلاس کی کارروائی میں پہلے یہ معاملہ شامل ہے، لہٰذا کارروائی کوملتوی کرکے اس پر بحث کرنا ضابطہ کے خلاف ہے۔

اس پر پی ڈی پی کے ممبران نے کہا کہ گمنام قبروں کا معاملہ پوری آبادی کا مسئلہ ہے لہٰذا اس پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔

لیکن جب سپیکر محمد اکبر لون نے اپوزیشن کی تحریک التوا کو مسترد کیا تو نعرے بازی، شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی کے بیچ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی قیادت میں پارٹی نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔

محبوبہ مفتی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اجتماعی قبروں اور پچھلے سال احتجاجی تحریک کے دوران پولیس کارروائیوں میں میں ایک سو بیس نواجوانوں کی ہلاکت کے معاملہ پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

یہ پوچھنے پر کہ قبروں کے معاملہ پر بحث کی درخواست رد کیوں کی گئی، وزیرقانون علی محمد ساگر نے کہا کہ اپوزیشن کی نیت ٹھیک نہیں تھی، اور وہ ایوان کی کارروائی کو سیاسی مفادات کے لیے ’ہائی جیک‘ کرنا چاہتے تھے۔

تاہم بعد میں قبروں کے معاملے پر ایوان میں بحث ہوئی جس کے دوران وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے کہا ’ یہ اجتماعی قبریں نہیں ہیں۔ یہ تو نامعلوم قبریں ہیں۔جن لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان کے اقرباء کسی نامعلوم قبر میں دفن ہیں تو انہیں اپنا ڈی این اے نمونہ لے کر انسانی حقوق کمیشن کے دفتر میں اندراج کرانا چاہئے، کیونکہ ہم شناخت کا انتظام کررہے ہیں‘۔

وزیراعلیٰ، جو پیر کی رات ہی سنگاپور سے واپس وادی لوٹے تھے، نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ پچھلے بائیس سال کی شورش کے دوران صرف سترہ ہزار شہری مارے گئے ہیں لیکن علیٰحدگی پسند مبالغہ سے کام لے کر ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں بتاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ’ کہیں کہیں سیکورٹی فورسز سے بھی غلطی ہوئی ہے، لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ مسلح شدت پسندوں نے بھی لوگوں کو قتل کیا‘۔

بدھ کے روز ایوان میں مزید ہنگامہ آرائی کا امکان ہے کیونکہ اس روز افضل گورو کی سزائے موت کے خلاف قرارداد پر بحث ہوگی۔ قرار داد ایک آزاد ممبراسمبلی شیخ عبدالرشید نے پیش کی ہے، جس پر اپوزیشن نے حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔

اسی بارے میں