بھارت میں وسط مدتی انتخابات کےتذکرے

منموہن سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر سنگھ کی حکومت پر ہر طرف سے نکتہ چینی ہورہی ہے

انیس سو اٹھانوے کے بعد پہلی مرتبہ بھارت میں وسط مدتی انتخابات کا ذکر شروع ہوا ہے اور اس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ کافی عرصے بعد حکومت کو سیاسی اور اقتصادی دونوں محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک میں انیس سو نواسی سے لیکر اکیانوے تک اور پھر وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے دور اقتدار کے بعد انیس سو چھیانوے سے اٹھانوے تک سیاسی عدم استحکام رہا اور تیزی سے حکومتیں بدلتی رہیں۔

لیکن انیس سو اٹھانوے میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں بی جے پی برسر اقتدار آئی اور تب سے کئی ایسے بڑے واقعات پیش آئے جن سے حکومتیں گرسکتی تھیں لیکن گری نہیں۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے بیشتر واقعات کا تعلق قومی سلامتی سے تھا اور ایسے میں روایتاً بھارت کی سیاسی جماعتیں قومی مفاد میں متحد ہوجاتی ہیں یا کم سے کم کھلے طور پر ان سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اپوزیشن بی جے پی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے

مثال کے طور پر انیس سو ننانونے میں کارگل کی لڑائی ہوئی جب پاکستانی درانداز ملک میں داخل ہوکر برفیلے پہاڑوں پر مورچہ زن ہوئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ یہ فوجی انٹیلیجنس کی بڑی ناکامی تھی، دراندازوں کو پسپا کرنے میں بھارتی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا لیکن حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے حکومت کے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا۔

اسی طرح سن دو ہزار ایک میں ملک کی پارلیمان پر حملہ ہوا اور کہا جاتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان جنگ کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن کانگریس نے خاموشی سے ایک ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔

ممبئی پر دو ہزار آٹھ کے حملوں کو بھی اسی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے بس فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت کی باگ ڈور کانگریس کے ہاتھ میں آچکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کرپشن کے سبب عوام میں زبردست غصہ ہے

تو اب کیا بدلا ہے جو وسط مدتی انتخابات کا ذکر شروع ہوا ہے؟

کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت دو ہزار چار سے نو کے درمیان کافی کامیاب رہی اور عوام نے دو سال قبل بھر پور انداز میں اسے دوبارہ اقتدار سونپا۔ لیکن اس کے بعد سے حکومت کو ایک کے بعد ایک ایسے گھپلوں اور تنازعات کا سامنا رہا ہے جس سے اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اور یہ تاثر عام ہوا ہے کہ وفاقی حکومت بدعنوانی سے نمٹنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

خود وزیر اعظم اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ آزادی کے بعد سے اب تک ان کی حکومت کو سب سے زیادہ بدعنوان مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ تین بڑے گھپلے ہیں جن سے حکومت کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

لیکن بنیادی طور پر سب سے زیادہ نقصان ٹو جی سکیم سے پہنچا ہے جس میں موبائل فون کے لائسنس کوڑیوں کے دام جاری کیے جانے کا الزام ہے۔ اور جو کثر باقی تھی وہ مبصرین کے مطابق بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی تحریک اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی سے پوری ہوگئی۔

دولت مشترکہ کھیلوں کےانعقاد میں بڑے پیمانے پر مبینہ بےضابطگیوں اور بدانتظامی سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی، اس کے بعد آدرش سوسائٹی کا گھپلہ منظر عام پر آیا( جس میں مہارشٹر کے وزیر اعلی کو مستعفی ہونا پڑا) لیکن ٹی جی سکیم حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ پہلے سے جیل میں ہیں اور اب حزب اختلاف وزیر داخلہ پی چدمبرم کے سر کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ مسٹر چدمبرم پر الزام ہے کہ وہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے اگر خاطر خواہ کارروائی کرتے تو ٹو جی سکیم کو روکا جاسکتا تھا۔(یہ بات خود وزارت خزانہ کےایک نوٹ میں کہی گئی ہے جو وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجا گیا تھا) اور اب حزب اختلاف نے خود وزیر اعظم کو بھی براہ راست نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

اس پورے کیس میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کافی کمزور نظر آئے ہیں اور خود ان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پہلے ان پر اے راجہ کو بچانے کا الزام لگا، اور حیرت انگیز طور پر انہوں نے تسلیم کیا کہ مخلوط حکومت چلانے کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں، (اے راجہ اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے وابستہ ہیں) اور اب الزام ہے کہ وہ مسٹر چدمبرم کو بچا رہے ہیں۔

لیکن ان الزامات سے قطع نظر انہوں نے دو ایسے بیان دیے ہیں جنہیں سمجھنا مشکل ہے۔ پہلے انہوں نے پارلیمان میں کہا کہ غیر ملکی طاقتیں ملک کی تیز رفتار اقتصادی ترقی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے بعد وطن واپس لوٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کچھ طاقتیں’ ملک کے سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وسط مدتی انتخبات کرائے جاسکیں۔

لیکن اگر ان کا اشارہ حزب اختلاف کی طرف ہے اور اگر حزب اختلاف کو لگے کہ اس کے پاس اقتدار میں لوٹنے کا موقع ہے تو اس بات میں کیا برائی ہے کہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے وسط مدتی انتخبات کرانے کی کوشش کرے؟

در اصل بہت برسوں میں پہلی مرتبہ دو تین مسئلے ہیں جو ایک ساتھ عروج کو پہنچ رہے ہیں۔ مہنگائی بے قابو ہے اور اقتصصادی ترقی کی رفتار تیزی سے سست پڑ رہی ہے، عام لوگ پریشان ہیں اور اربوں کےگھپلوں کو بھولنے کے لیے تیار نہیں، حکومت بدعنوانی کے تاثر کو زائل کرنے میں ناکام رہی ہے مبصرین کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں خود من موہن سنگھ رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایک مبصر نے بدھ کو ہی اپنے کالم میں لکھا ہے کہ من موہن سنگھ خود ذمہ داری لینے سے بچتے ہیں اور ان کی حکومت کی یہ سب سے بڑی کمزوری ہے۔ جب وزرا یہ کہہ کر جان بچانے لگیں کہ ’ یہ کام میں نے نہیں کیا یا میری غلطی نہیں تھی’ جیسا کہ ٹو جی سکیم میں ہو رہا ہے، اور جب وزیر اعظم اپنی حکومت کے بجائے اپنے وزرا کا اور خود اپنا دفاع کریں، تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت یو پی اے کی حکومت میں ہو رہا ہے۔

خود بی جے پی بھی انتشار کا شکار ہے اور پارٹی میں وزیر اعظم کے عہدے کے کئی دعویدار ہیں۔ وسط مدتی انتخابات کی بات تو شاید ٹھنڈی ہو جائے گی لیکن مبصرین کے مطابق حکومت کی مشکلات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک وزیر اعظم دو قدم آگے بڑھ کر یہ نہیں کہتے کہ ’یہ میری حکومت ہے اور اس کے ہر اچھے برے کام کے لیے حتمی ذمہ داری بھی میری ہے۔’

حزب اختلاف کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کےکئی دعویدار میدان میں ہیں، حکومت کی طرف سے وزیر اعظم کو بھی میدان میں اترنا ہوگا۔ یہ انتخابی جنگ کی تیاری ہے، اصل جنگ کب ہوگی یہ فیصلہ ابھی تو وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے لیکن ان کے لیے الٹی گنتی شاید شروع ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں