کشمیر، افضل گورو پر اسمبلی کے باہر دھرنا

انجینیئر رشید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شیخ رشید اور ان کے حامیوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں افضل گرو کی سزائے موت پر معافی کے لیے قراداد پر بحث نہ ہونے کے سبب ریاستی اسبملی کے باہر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

سزائے موت کو معافکرانے سے متعلق قرارداد آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالریشید نے پیش کی تھی جنہوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ اسبملی کے باہر احتجاج کیا۔

سکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا اور مسٹر رشید سمیت بہت سے افراد کو حراست میں لے لیا گيا لیکن بعد میں انہیں رہا کردیا گيا۔

رہائی کے بعد شیخ رشید نے سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کے خلاف شکایت کی اور کہا کہ ان کے ساتھ زياتی کی گئی ہے۔

بہت سے لوگ اس بات سے ناراض ہیں کہ افضل گرو کی موت کی سزا کی معافی کے لیے جو قرارداد پیش کی گئی ہے اس پر بحث نہیں ہوسکی۔

عبدالرشید نے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر کی سبھی ہندنواز جماعتوں نے نئی دلّی کے کہنے پر قرارداد کے خلاف ماحول بنایا اور اس پر بحث کے امکان کو سبوتاژ کیا۔

انہوں نے کہا ’حکمران کانگریس اور نیشنل کانفرنس کو اپنی کرسی بچانی تھی، لیکن پی ڈی پی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ سب لوگ دلّی کے غلام ہیں‘۔

بدھ کو محمد افضل گورو کی سزائے موت کے خلاف معافی کی جس قرارداد پر بحث متوقع تھی وہ شدید ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکی تھی۔

اس قرار داد پر بحث ٹل جانے کے بعد ہندنواز سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر بی جے پی کے ساتھ ’میچ فکس‘ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

Image caption افضل گرو کی رحم کی اپیل ابھی صدر کے پاس پڑی ہے

واضح رہے کہ دس سال قبل بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کی سازش میں ملوث قرار دیے جانے والے افضل گورو کی طرف سے رحم کی اپیل بھی بھارت کی صدرجمہوریہ پرتیبھا سنگھ پاٹل کے پاس زیرغور ہے۔

شمالی کشمیر کے لنگیٹ علاقہ سے منتخب ہوئے آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید نے ایک ’پرائیویٹ ممبر بِل کے ذریعے اسمبلی سپیکر سے مطالبہ کیا تھا کہ افضل گورو کی سزا معاف کرانے کے حق میں ایوان ایک قرارداد پر بحث کرے اور اس پر زبانی ووٹنگ کرائے۔

سپیکر نےاس درخواست کو منظور کر لیا تھا اور بحث کے لیے اٹھائیس ستمبر کی تاریخ طےکی گئي تھی

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث بعض جوگوں کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں بھی اسی طرح کی قرارداد پاس کی گئی تھی اور ملزموں کی پھانسی ٹل گئی ہے۔

مسٹر رشید نے حریت کانفرنس کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا ’ اگر حریت والے یہاں ہوتے تو میں اکیلا یہ جنگ نہ ہارتا۔ انہوں نے ایک ماہ سے اس معاملہ پر زبان تک نہیں کھولی‘

اسی بارے میں