کشمیر:’عمرعبداللہ نے معافی مانگ لی‘

عمر عبداللہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قابل ذکر ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے پہلے جنسی زیادتی کے شکار افراد کی شناخت ظاہر کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے پانچ سال میں جنسی زیادتیوں کے ایک ہزار تین سو واقعات کی تفصیل اور متاثرہ خواتین کی شناخت ظاہر کرنے پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے معافی مانگ لی ہے۔

جمعہ کو سری نگر میں ستاسی رکنی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ تو سپریم کورٹ کی ہدایات کے خلاف ہے۔ میں اس غلطی کے لیے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں۔‘

جموں کے ڈوڈہ حلقے کے رکن اسمبلی عبدالمجید وانی نے جمعرات کو حکومت سے پوچھا تھا کہ ریاست میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے کتنے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں وزارت داخلہ کا ایک تحریری جواب جاری کر دیا گیا جس میں دسمبر دو ہزار چھہ سے دو ہزار گیارہ تک کے وہ تمام پولیس مقدمے شامل تھے جن میں ایک ہزار تین سو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی تفصیل موجود ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے پہلے جنسی زیادتی کے شکار افراد کی شناخت ظاہر کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے اور بھارت کے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ دو سو اٹھائیس کے مطابق کوئی شخص ایسا کرے تو اسے دو سال کی قید ہو سکتی ہے۔

اسمبلی میں پیش کیے گئے پولیس ریکارڑ میں جنسی زیادتیوں کی شکار تیرہ سو خواتین کا نام، والد یا خاوند کا نام اور ان کے گھر کا پتہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کی رہنماء محبوبہ مفتی نے اس حرکت کو حکومت کی طرف سے ایک اخلاقی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمرعبداللہ کی حکومت لوگوں کی جان ، مال اور عزت کی حفاظت کرنے کی بجائے یہاں کی خواتین کو رسوا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر ارشد حسین نے بتایا کہ ’ریپ ہمارے سماج میں ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور جس خاتون کے ساتھ یہ واردات ہوجاتی ہے، اس کو بھی سماج صحیح معنوں میں نہیں اپناتا۔ ایسے میں اگر ریپ سے متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر کر دی جائے تو یہ اس کے اور اس کے پورے خاندان کے خلاف ایک نفسیاتی حملہ ہوتا ہے۔‘

عوامی اور سیاسی ردعمل کو دیکھتے ہوئے جمعہ کو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ ’وزارت داخلہ میرا محکمہ ہے اور میں غلطی تسلیم کرتا ہوں۔ میں ان متاثرہ خاندانوں سے بھی معافی مانگتا ہوں جن کو اس انکشاف سے تکلیف ہوئی ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔‘

اسی بارے میں