’لوک پال نہیں تو کانگریس کی مخالفت‘

انا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انّا ہزارے کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی جن لوک پال بل کی حمایت نہیں کر رہی ہے

بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے سرکردہ رہنما انّا ہزارے نے کہا ہے کہ اگر آئندہ پارلیمانی اجلاس میں جن لوک پال بل منظور نہیں کیا گیا تو وہ کانگریس پارٹی کے خلاف مہم چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس کے لیے دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

انّا ہزارے کی ٹیم بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط قانون کے حق میں اور ’جن لوک پال بل‘ میں اسی کی حمایت کی گئی ہے۔

انّا ہزارے کا کہنا ہے ’اگر سرمائی اجلاس میں جن لوک پال بل کو منظور نہیں کیا گيا تو میں اس کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹہراؤں گا اور عوام سے اپیل کروں گا کہ وہ آئندہ پانچ ریاستوں میں ہونے اسبملی انتخابات میں کانگریس کو ووٹ نا دیں۔‘

اپنے آبائی گاؤں میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ وہ اس کے لیے پورے ملک کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ابتداء پہلے ان پانچ ریاستوں سے ہوگی جن میں آئندہ برس انتخابات ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی سیاسی جماعتوں نے جن لوک پال بل کی حمایت کی ہے لیکن کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

ان کے بقول اگر ایسا ہی رہا تو پھر ریاست ہریانہ میں جس پارلیمانی نسشت پر تیرہ اکتوبر کو انتخاب ہونے والا ہے اس میں وہ سب سے پہلے کانگریس پارٹی کے امید وار کی کھل کر مخالفت کر کے اپنی مہم کا آغاز کریں گے۔

اس کے بعد انّا ہزارے کی ٹیم کا نشانہ ریاست اترپردیش کے انتخابات ہیں۔ مسٹر ہزارے نے کہا ’ پہلے ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں میں تین دن کے لیے علامتی بھوک ہڑتال کروں گا اور اس کے بعد دیگر ریاستوں میں مہم چلائی جائےگی۔‘

لیکن انّا ہزارے نے یہ بھی کہا کہ اگر کانگریس پارٹی جن لوک پال بل کی حمایت کرتی ہے تو پھر وہ کانگریس کے اچھے امیداروں کی حمایت بھی کریں گے۔

صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں مسٹر ہزارے نے گجرات کے وزیراعلی نریندو مودی پر بھی اس بات کے لیے نکتہ چینی کی کہ انہوں نے سرکارکے خلاف آواز اٹھانے والے سینیئر پولیس افسر سنجیو بھٹ کے خلاف کارروائی کی ہے۔

مسٹر ہزارے نے کہا کہ یہ جمہوریت کے منافی ہے کہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک افسر کے خلاف بدلے کی کرروائی کی جائے۔

اسی بارے میں