بھارت: مسلمانوں کے خلاف لکھنے پر مقدمہ

سبرامنیم سوامی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوامی مذہبی بنیاد پر سیاست بھی کرتے رہے ہیں

ایک بھارتی اخبار میں مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض باتیں لکھنے پر جنتا پارٹی کے رہنماء اور سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل سبرامنیم سوامی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

گزشتہ جولائی میں ممبئی بم دھماکے کے دو روز بعد سبرامنیم سوامی نے ایک انگریزی اخبار میں لکھے گئے اپنے ایک کالم میں اس کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اپنے مضمون میں سوامی نے سخت گیر اسلام کے مقابلے کے لیے ہندوؤں کو متحد ہونے کو کہا تھا اور تجویز پیش کی تھی کہ بھارت میں مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا جائے۔

دلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا ہے کہ کرائم برانچ نے دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے الزام میں سوامی کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

دلی پولیس کے کرائم برانچ کے سربراہ اشوک چاند نے اس بارے میں کہا ’ہم نے دفعہ ایک سو تریپن کے تحت کیس درج کیا ہے اور ہم اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔‘

سبرامنیم سوامی کے اس مذکورہ مضمون کا عنوان تھا ’ہاؤ ٹو وائپ آؤٹ اسلامک ٹیرر‘ یعنی اسلامک دہشت گردی کو کیسے ختم کیا جائے۔ یہ مضمون انگریزی اخبار ڈی این اے میں شا‏ئع ہوا تھا۔

سبرامنیم سوامی نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ دہشتگرد کاررائیوں سے نمٹنے کے لیے ہندوؤں کو متحد ہوکر جواب دینا چاہیے اور اگر ضرورت پڑے تو مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جانا چاہیے۔

اس سے پہلے اقلیمتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ نے بھی سوامی کے مضمون پر سخت نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ تحریر دشمنی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ہے۔

ڈاکٹر سبرامنیم سوامی امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ڈگری یافتہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کے سلسلے میں وزیرداخلہ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اس لیے ان ہی کے اشاروں پر ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ’وزیر داخلہ پی چدامبرم کے کہنے پر یہ معاملہ درج کیا گيا ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ آئین کے دائرے میں ہے اور اس پر میرے خلاف کیس درج نہیں کیا جا سکتا۔‘

سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ اس کے خلاف عدالت جائیں گے۔

اسی بارے میں