چھتیس گڑھ، چار سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں حکام کے مطابق بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں کم از کم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگ مبینہ طور پر ماؤ نواز باغیوں نے بچھائی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی شورش زدہ علاقے بستار سے گزر رہی تھی کہ اس دوران سڑک کے درمیان بچھائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

حکام کا کہنا ہے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق پولیس کے مسلح دستے ایس ایس بی سے تھا۔

پولیس نے بی بی سی کے سلمان روی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی شورش زدہ علاقے داندے واد سے جگدال پور واپس آ رہی تھی کہ بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

پولیس افسر سرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں گاڑی کو بری طرح نقصان پہنچا ہے جب کہ زخمی ہونے والے پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ سال اسی ریاست میں باغیوں نے ایک کارروائی میں چوہتر پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ قبائلیوں اور غریب آبادی کے حقوق کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم کے مطابق ماؤ نواز باغی ملک کے درپیش سب سے بڑا اندرونی خطرہ ہیں۔

حکومت نے باغیوں کے خلاف سال دو ہزار نو میں’ آپریشن گرین ہنٹ‘ کے نامی سے ایک کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

پانچ ریاستوں میں شروع کیے جانے والے اس آپریشن میں پچاس ہزار سکیورٹی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں