بھارت: سابق وزیر کی گرفتاری کے لیے چھاپے

Image caption دیانیدھی مارن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

بھارت میں سابق مرکزی وزیر مواصلات دیانیدھی مارن اور ان کے بھائی كلانیدھی مارن پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ان کے دفتروں اور گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ سی بی آئی نے گزشتہ رات دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس کے بعد پیر کو کئی مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ان کے ایک ساتھی اور سابق وزیرِ مواصلات اندیمیٹھو راجا پہلے ہی ایک بدعنوانی کے کیس میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

دیانیدھی مارن پر الزام ہے کہ جب ان کے پاس مواصلات کی وزارت تھی تو غیر قانونی طور پر اور ناجائز مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک کمپنی کو مالی فائدہ پہنچایا تھا جبکہ ان کے خلاف کم لاگت کے عوض ٹیلی کام لائسنس جاری کرنے کا بھی الزام تھا جس کی وہ تردید کر چکے ہیں۔

دیانیدھی مارن نے کچھ ہی عرصہ پہلے وزیرِ ٹیکسٹائل کے عہدے سے استعفٰی دیا تھا۔ دیانیدھی مارن کا تعلق ڈی ایم کے پارٹی سے ہے جو مرکز میں کانگریس کی اتحادی جماعت ہے۔

چنئی میں دیانیدھی مارن کے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں جبکہ حیدرآباد ، دہلی اور چند دیگر جگہوں پر بھی ان کی املاک پر چھاپے مارے گئے ہیں۔

بھارت کے میڈیا پر دکھائی جانے والی فوٹیج کے مطابق، بھارت کے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حکام نے صبح ساڑھے سات بجے ہی چھاپے مارنے شروع کردیے تھے اور یہ کارروائی ہنوز جاری ہے۔

سی بی آئی نے دیانیدھی اور كلانیدھی کے علاوہ ایسٹرو کمپنی کے سی ای او، رالف مارشل اور اندكرشن کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے جنہوں نے كلانیدھی مارن کے ٹی وی چینل میں سرمایہ کاری کی تھی۔

سی بی آئی نے بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ کے تحت مارن برادران کے ساتھ ساتھ سن ٹی وی، ایسپرو اور میكسس کے خلاف رپورٹ درج کی ہے۔

اگر دیانیدھی اور كلانیدھی مارن کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان رشتوں میں اور بھی دراڑ آ جائے گی کیونکہ پارٹی کے دو بڑے رہنماء اے راجا اور ڈی ایم کے سربراہ کی بیٹی کنی موڑی پہلے سے ہی ٹوجی معاملے میں جیل میں ہیں۔

مارن کی گرفتاری کے بعد سن ٹی وی کے حصص میں پیر کو زبردست گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں