کشمیری اخبارات پر مالی پابندیاں

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر میں میڈیا پر پہلے ہی سے بہت سی پابندیاں عائد ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے اردو اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والے پانچ معروف اخباروں میں بھارتی وزارتوں اور پبلک سیکڑ اداروں کے اشتہارات کی اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

یہ انکشاف نئی دلّی سے شائع ہونے والے ایک ہفت وار نیوز میگزین ’انڈیا ٹوڈے ‘ نے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کا ایک حکمنامہ تمام وزارتوں اور دیگر سرکاری اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انگریزی روزنامہ کشمیر ٹائمز، گریٹر کشمیر، رائزنگ کشمیر اور اردو روزنامہ بلند کشمیر میں بھارتی وزارتوں اور قومی اداروں کے اشتہارات کی اشاعت پر پابندی کردی گئی ہے۔

رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر وزارت داخلہ کے ایک افسر کا حوالہ دیکر کہاگیا ہے کہ ’' کچھ اخبارات علیٰحدگی پسندانہ پراپگنڈہ کرتے ہیں جس سے سماج میں آپسی منافرت پھیلتی ہے۔‘

مذکورہ افسر کا مزید کہنا ہے: ’وزارت داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ قوم کے تئیں دشمنانہ عزائم رکھنے والے اخبارات کو حکومت کی طرف سے کوئی حمایت نہیں دی جائےگی، لیکن اگر انہوں نے اپنے رویہ میں تبدیلی لائی تو اس فیصلہ پر نظرثانی ہوسکتی ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ پچھلے کئی سال سے یہاں جاری غیرمسلح احتجاجی تحریک کے بعد مقامی میڈیا اداروں کو مختلف سطحوں پر قدغنوں کا سامنا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وزارت داخلہ کا خفیہ حکمنامہ میڈیا کے ذریعہ منکشف ہواہے۔

سینیئر صحافی پرویز بخاری کا کہنا ہے کہ جب بھی یہاں کے مقامی اخبارات صورتحال کو صحیح تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو پابندیوں میں کسنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ’ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ کون طے کرے گا کہ بھارت مخالف لہجہ کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ تین سال قبل مقامی ٹی وی چینلوں پر خبروں کی نشریات اور موبائل فون پر پیغام رسانی پر جو پابندی عائد کی گئی تھی وہ ابھی بھی برقرار ہے۔

اسی بارے میں